مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نیلی مسجد یو کے اسلامک مشن راچڈیل میں حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام پرخصوصی بیان
راچڈیل:نیلی مسجد راچڈیل کے امام و مذہبی اسکالر مولانا میر اعظم خان کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کریم کی روشنی میں انگریزی زبان میں نوجوانوں،مرد و خواتین سے دل افروز بیان۔ نیلی مسجد کے کمیٹی صدر حاجی بشیر احمد،منتظمین ظہیر احسان،محمد عمران، ڈاکٹر عمر و دیگر کے علاؤہ نبیل طارق،خالد چوہدری،اور علاقے بھر سے مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ مسلمانوں کے ایک جلیل القدر پیغمبر و رسول اور قرآن مجید کے مطابق سب سے زیادہ پاک و پاکیزہ ہستی ہیں۔ قرآن مجید کی سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مریم علیہا السلام کو ہدایت ھوئی۔جب دردِ زہ ہوا۔کہ کجھوروں کے تنے کو ھلاہیں تاکہ ان پر تازہ پکی کجھوریں گریں اور وہ اس کو کھائیں اور چشمے کا پانی پی کر طاقت حاصل کریں۔ دردِ زہ ہر عورت کو بچے کی پیدائش پر ہوتی ھے۔ جو نہایت تکلیف دہ ہے۔موجودہ عیسائی اپنا رشتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جوڑتے ہیں جب کہ اس دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق تین طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ وہ ابنِ اللہ اور اقانیم ثلثہ کے ایک جز ہیں۔یہ نظریہ عسائیوں کا ہے۔ دوسرا نظریہ یہودیوں کا ہے جو العیاذ باللہ آپکی ولدیت کے متعلق سوال اٹھاتے ہیں اور تیسرا نظریہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے پیغمبر اور رسول ہیں۔جو ایک مدت زمین پر رہے پھر آسمان پر اٹھا لیے گے اور قرب قیامت پھر نازل ہونگے۔اور شریعتِ محمدیہ کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ایک مدت تک قیام کریں گے اور پھر وفات پا کر مدینہ منورہ میں مدفون ہونگے۔مذکورہ بالا تینوں نظریات و عقائد میں پہلا افراط اور دوسرا تفریط پر مبنی ہے۔کہ اول نے آپکا درجہ الوہیت سے ملا دیا۔دوسرے نے آپ کے جائز وجود کا بھی انکار کر دیا۔جب کہ تیسرا نظریہ اسلام کا ہے۔جو اس افراط و تفریط سے مکمل طور پر پاک اور مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ اور قرآن و احادیث سے مدلل طور پر ثابت شدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کیطرف رسول بنا کر بھیجا اور دلیل کے طور پر اس زمانے کے حالات کے موافق بہت سے معجزات عطا فرمائے۔جن میں ایک مٹی سے پرندے کی صورت بنا کر پھونک مارنا اور اس میں حقیقی پرندہ بن جانا۔دوسرا پیدائشی اندھوں کو آنکھوں کا نور عطا فرما دینا۔کوڑ کے مریضوں کو شفایاب کر دینا۔ تیسرا مردوں کو زندہ کر دینا، اور چوتھا غیب کی خبریں دینا۔ مولانا میر اعظم خان نے بیان کے اختتام پر تمام امت مسلمہ کے لیے دعا فرمائی اور آئندہ ہفتہ 7 اپریل کو بعد نماز عصر ساڑھے چھ بجے العسرا و المعراج پر نیلی مسجد راچڈیل میں بیان کریں گئے جس پر تمام مسلمانوں کو شرکت کی دعوت دی۔ آخر میں منتظمین اور ناظم حاجی بشیر احمد نے تمام حاضرین کا تشریف لانے پر شکریہ ادا کیا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر