مقبول خبریں
مسلم کانفرنس کے مرکزی راہنما راجہ یاسین کے اعزاز میں چوہدری محمد بشیر رٹوی اور ساتھیوں کا استقبالیہ
بیسٹ وے گروپ کے سربراہ سرانور پرویز کی جانب سے کمیونٹی رہنمائوں کے اعزاز میں استقبالیہ
نبوت بھی اﷲ کی عطا ہے اور صحابیت بھی، نبوت بھی ختم ہے اور صحابیت بھی: ڈاکٹر خالد محمود
شریف فیملی کو فوری ریلیف نہ مل سکا، جولائی کے آخر تک سماعت ملتوی
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج نے نوجوان کا سر تن سے جدا کر دیا ،احتجاج،جھڑپیں
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
مسئلہ کشمیر پرقوم کا نکتہ نظر اور قربانیاں رنگ لا رہی ہیں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
نیا موسم تمہارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پکچرگیلری
Advertisement
نیلی مسجد یو کے اسلامک مشن راچڈیل میں حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام پرخصوصی بیان
راچڈیل:نیلی مسجد راچڈیل کے امام و مذہبی اسکالر مولانا میر اعظم خان کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کریم کی روشنی میں انگریزی زبان میں نوجوانوں،مرد و خواتین سے دل افروز بیان۔ نیلی مسجد کے کمیٹی صدر حاجی بشیر احمد،منتظمین ظہیر احسان،محمد عمران، ڈاکٹر عمر و دیگر کے علاؤہ نبیل طارق،خالد چوہدری،اور علاقے بھر سے مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ مسلمانوں کے ایک جلیل القدر پیغمبر و رسول اور قرآن مجید کے مطابق سب سے زیادہ پاک و پاکیزہ ہستی ہیں۔ قرآن مجید کی سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مریم علیہا السلام کو ہدایت ھوئی۔جب دردِ زہ ہوا۔کہ کجھوروں کے تنے کو ھلاہیں تاکہ ان پر تازہ پکی کجھوریں گریں اور وہ اس کو کھائیں اور چشمے کا پانی پی کر طاقت حاصل کریں۔ دردِ زہ ہر عورت کو بچے کی پیدائش پر ہوتی ھے۔ جو نہایت تکلیف دہ ہے۔موجودہ عیسائی اپنا رشتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جوڑتے ہیں جب کہ اس دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق تین طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ وہ ابنِ اللہ اور اقانیم ثلثہ کے ایک جز ہیں۔یہ نظریہ عسائیوں کا ہے۔ دوسرا نظریہ یہودیوں کا ہے جو العیاذ باللہ آپکی ولدیت کے متعلق سوال اٹھاتے ہیں اور تیسرا نظریہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے پیغمبر اور رسول ہیں۔جو ایک مدت زمین پر رہے پھر آسمان پر اٹھا لیے گے اور قرب قیامت پھر نازل ہونگے۔اور شریعتِ محمدیہ کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ایک مدت تک قیام کریں گے اور پھر وفات پا کر مدینہ منورہ میں مدفون ہونگے۔مذکورہ بالا تینوں نظریات و عقائد میں پہلا افراط اور دوسرا تفریط پر مبنی ہے۔کہ اول نے آپکا درجہ الوہیت سے ملا دیا۔دوسرے نے آپ کے جائز وجود کا بھی انکار کر دیا۔جب کہ تیسرا نظریہ اسلام کا ہے۔جو اس افراط و تفریط سے مکمل طور پر پاک اور مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ اور قرآن و احادیث سے مدلل طور پر ثابت شدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کیطرف رسول بنا کر بھیجا اور دلیل کے طور پر اس زمانے کے حالات کے موافق بہت سے معجزات عطا فرمائے۔جن میں ایک مٹی سے پرندے کی صورت بنا کر پھونک مارنا اور اس میں حقیقی پرندہ بن جانا۔دوسرا پیدائشی اندھوں کو آنکھوں کا نور عطا فرما دینا۔کوڑ کے مریضوں کو شفایاب کر دینا۔ تیسرا مردوں کو زندہ کر دینا، اور چوتھا غیب کی خبریں دینا۔ مولانا میر اعظم خان نے بیان کے اختتام پر تمام امت مسلمہ کے لیے دعا فرمائی اور آئندہ ہفتہ 7 اپریل کو بعد نماز عصر ساڑھے چھ بجے العسرا و المعراج پر نیلی مسجد راچڈیل میں بیان کریں گئے جس پر تمام مسلمانوں کو شرکت کی دعوت دی۔ آخر میں منتظمین اور ناظم حاجی بشیر احمد نے تمام حاضرین کا تشریف لانے پر شکریہ ادا کیا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر