مقبول خبریں
اولڈہم کے مقامی ہوٹل ہال میں باغیچہ سجانے کی تقسیم انعامات کی تقریب
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
نیلی مسجد یو کے اسلامک مشن راچڈیل میں حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام پرخصوصی بیان
راچڈیل:نیلی مسجد راچڈیل کے امام و مذہبی اسکالر مولانا میر اعظم خان کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کریم کی روشنی میں انگریزی زبان میں نوجوانوں،مرد و خواتین سے دل افروز بیان۔ نیلی مسجد کے کمیٹی صدر حاجی بشیر احمد،منتظمین ظہیر احسان،محمد عمران، ڈاکٹر عمر و دیگر کے علاؤہ نبیل طارق،خالد چوہدری،اور علاقے بھر سے مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ مسلمانوں کے ایک جلیل القدر پیغمبر و رسول اور قرآن مجید کے مطابق سب سے زیادہ پاک و پاکیزہ ہستی ہیں۔ قرآن مجید کی سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مریم علیہا السلام کو ہدایت ھوئی۔جب دردِ زہ ہوا۔کہ کجھوروں کے تنے کو ھلاہیں تاکہ ان پر تازہ پکی کجھوریں گریں اور وہ اس کو کھائیں اور چشمے کا پانی پی کر طاقت حاصل کریں۔ دردِ زہ ہر عورت کو بچے کی پیدائش پر ہوتی ھے۔ جو نہایت تکلیف دہ ہے۔موجودہ عیسائی اپنا رشتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جوڑتے ہیں جب کہ اس دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق تین طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ وہ ابنِ اللہ اور اقانیم ثلثہ کے ایک جز ہیں۔یہ نظریہ عسائیوں کا ہے۔ دوسرا نظریہ یہودیوں کا ہے جو العیاذ باللہ آپکی ولدیت کے متعلق سوال اٹھاتے ہیں اور تیسرا نظریہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے پیغمبر اور رسول ہیں۔جو ایک مدت زمین پر رہے پھر آسمان پر اٹھا لیے گے اور قرب قیامت پھر نازل ہونگے۔اور شریعتِ محمدیہ کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ایک مدت تک قیام کریں گے اور پھر وفات پا کر مدینہ منورہ میں مدفون ہونگے۔مذکورہ بالا تینوں نظریات و عقائد میں پہلا افراط اور دوسرا تفریط پر مبنی ہے۔کہ اول نے آپکا درجہ الوہیت سے ملا دیا۔دوسرے نے آپ کے جائز وجود کا بھی انکار کر دیا۔جب کہ تیسرا نظریہ اسلام کا ہے۔جو اس افراط و تفریط سے مکمل طور پر پاک اور مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ اور قرآن و احادیث سے مدلل طور پر ثابت شدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کیطرف رسول بنا کر بھیجا اور دلیل کے طور پر اس زمانے کے حالات کے موافق بہت سے معجزات عطا فرمائے۔جن میں ایک مٹی سے پرندے کی صورت بنا کر پھونک مارنا اور اس میں حقیقی پرندہ بن جانا۔دوسرا پیدائشی اندھوں کو آنکھوں کا نور عطا فرما دینا۔کوڑ کے مریضوں کو شفایاب کر دینا۔ تیسرا مردوں کو زندہ کر دینا، اور چوتھا غیب کی خبریں دینا۔ مولانا میر اعظم خان نے بیان کے اختتام پر تمام امت مسلمہ کے لیے دعا فرمائی اور آئندہ ہفتہ 7 اپریل کو بعد نماز عصر ساڑھے چھ بجے العسرا و المعراج پر نیلی مسجد راچڈیل میں بیان کریں گئے جس پر تمام مسلمانوں کو شرکت کی دعوت دی۔ آخر میں منتظمین اور ناظم حاجی بشیر احمد نے تمام حاضرین کا تشریف لانے پر شکریہ ادا کیا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر