مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پینے کی قلت دور کرنے کیلئےآزادکشمیر میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا منصوبہ
مظفر آباد...آزاد کشمیر کے حکام نے خطے سے پانی کی قلت ختم کرنے کیلئےمنصوبہ سازی کی ہے جسکے مطابق زلزلے سے بحالی و تعمیر نو کے ادارے ’ایرا‘ نے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے لیے لوگوں میں اس کی آگاہی پیدا کرنے کے علاوہ عملی نمونے بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہلے مر حلے میں گیارہ یونین کونسلوں میں آزمائشی منصوبہ مکمل کیا گیا اور 122 سرکاری عمارتوں کی چھتوں سے بارش کا پانی محفوظ بنانے کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو گھروں اور عمارتوں کی چھتوں سے پائپ اور پرنالوں کے ذریعے ٹینکی میں محفوظ کیا جائے گا۔ ایرا کے ڈائریکٹر جنرل واٹر اینڈ سینی ٹیشن ظہیر حسین گردیزی نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اس سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے زلزلہ زدہ پہاڑی علاقوں نمونے کے طور پر اب تک 40 ہزار گھروں کو چھت سے بارش کے پانی کو ذخیرہ کر نے کے لیے پانی کی ٹینکیاں اور پرنالے مہیا کیے گیے ہیں۔ جن سے دو لاکھ 80 ہزار افراد مستفید ہو رہی ہے۔ ’تمام لوگوں کو سٹوریج دینا کے لیے مکمل نظام بنا کے دینا اور واٹر ٹینک دینا بڑا مشکل کام تھا اس کے لیے تو اربوں روپے درکار ہوں گے لیکن اصل مقصد یہ تھا اس منصوبے کا کہ لوگوں کو عملی نمونے کے ساتھ آگاہی فراہم کی جائے۔ اس کے لیے پہلے مرحلے میں سرکاری عمارتوں، اسکولوں اور مساجد وغیر میں واٹر ٹینکس بھی دیے گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر میں ہر سال اوسطاً 1500ملی میٹر بارش ہوتی ہے اور بارش کا یہ پانی پہاڑوں سے ندی نالوں میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اس پانی کو گھروں کی چھتوں سے ہی سے محفوظ بنا کر استعمال میں لا کر پانی کی قلت کو دور کیا جا سکتا ہے۔