مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہم نے آزاد کشمیر کی تاریخ میں تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات اٹھائے: افسر شاہد
راچڈیل:آزاد کشمیر کے سابق وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر افسر شاہد برطانیہ کے دورہ پر پہنچے ۔راچڈیل میں سیاسی و سماجی شخصیت لالہ علی اصغر نے عشائیہ دیا اس موقع پر مسلم کانفرنس برطانیہ کے صدر چوہدری محمد بشیر رٹوی، نثار احمد بھی موجود تھے۔انہوں نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں امید ہے حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔قانون کی عملداری کی کوشش ہے۔آزاد کشمیر میں آئینی پیکج کی اگر منظوری ہو جاتی ہے تو پھر آزاد کشمیر کے لوگوں کو ایک بااختیار حکومت مل جاتی ہے اس حوالہ سے آزاد کشمیر اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان ایک بہتر تعلقات کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دولت مشترکہ کے 18 اپریل کو لندن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت بارے انہوں نے کہا کہ انکے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔کشمیریوں کے جائز مطالبات کو بھارت جبر ،طاقت کے زور پر دباتا ہے لیکن کشمیری قوم مستانہ وار اپنی آواز بلند کیے ہوئے ہے ۔بھارت بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پرواہ کیے بغیر مظلوم کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اور موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں فرق یہ ہے کے ہم نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی کیونکہ تعلیم ہی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے ہم نے آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات اٹھائے اور تین میڈیکل کالجز ،یونیورسٹیز،اور بے شمار کالجز کا اجراء کیا۔اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ کشمیری نوجوان تعلیم حاصل کر کے جب بیرون ملک جائیں تو مسئلہ کشمیر پر کشمیر کے ساتھ پاکستان کے بھی سفارتکار ہوں ۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر