مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انڈین ویب سائٹ ’’کوبرا پوسٹ‘‘ کاچند میڈیا اداروں پر پیسے لے کر خبریں لگانے کا الزام
نئی دہلی:انڈیا میں تحقیقاتی صحافت کی ویب سائٹ ’’کوبرا پوسٹ‘‘ نے چند میڈیا اداروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ پیسے لے کر خبریں کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے چند ٹی چینلوں، بعض اخباروں اور ویب سائٹوں کے نمائندوں کے ساتھ سٹنگ آپریشن میں یہ باتیں معلوم کی ہیں۔انھوں نےاس سٹنگ آپریشن کا نام آپریشن 136 رکھا ہے جو سنہ 2017 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں انڈیا کی 136 ویں پوزیشن کے حوالے سے ہے۔انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں سٹنگ آپریشن کے حوالے سے بتایا گيا ہے کہ ملک میں پیڈ نیوز یعنی پیسے لے کر خبریں شائع کرنا بڑے پیمانے پر قابل قبول ہے۔کوبرا پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ اس نے سات ٹی وی چینلوں، چھ اخبارات، تین ویب پورٹلز اور ایک نیوز ایجنسی کے عملے کے ساتھ سٹنگ آپریشن کیا ہے۔ کوبرا پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے بہت سے نیوز چینل نے ہندوتوا کے نظریے کے فروغ کی مہم چلانے اور حزب اختلاف کے بہت سے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے خلاف الزام تراشی کرنے کے لیے چھ کروڑ روپے سے لے کر 50 کروڑ رو پے تک کی پیشکش کو قبول کیا۔کوبرا پوسٹ کا کہنا ہے کہ ابھی اس نے اس سٹنگ آپریش کا پہلا حصہ ہی جاری کیا ہے اور اس کا اگلا حصہ اگلے ماہ اپریل میں جاری کیا جائے گا۔سٹنگ آپریشن میں کوبرا پوسٹ کے صحافیوں نے میڈیا ہاؤس کے نمائندوں کے ساتھ ہندوتوا کو فروغ دینے اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف الزام تراشی کے لیے نقد رقم دینے کی پیشکش کی جسے انھوں نے قبول کیا۔اس کے علاوہ انھوں نے کسانوں کو ماؤ نواز قرار دینے، عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھانے، انصاف کے شعبے سے منسلک بعض لوگوں کو بدنام کرنے کے لیے بھی مخصوص میڈیا والوں کو پیسوں کی پیشکش کی۔کوبرا پوسٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن میڈیا ہاؤسز کے نمائندوں کو پیسوں کی پیشکش کی ان سب نے ان کی پیشکش کو قبول کیا اور انھیں نادر طریقے بھی بتائے۔سٹنگ آپریشن میں ایک نیوز چینل انڈیا ٹی وی کا بھی نام لیا گیا ہے جس کے بارے میں نیوز پورٹل دا کوئنٹ نے لکھا ہے کہ انڈیا ٹی وی میں سیلز کے صدر سدپتو چوہدری نے کوبرا پوسٹ کے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے اور فوٹیج کو قابل اعتراض بتایا ہے۔معروف صحافی آشوتوش جو اب عام آدمی پارٹی کے رہنما ہیں نے ایک ٹویٹ میں کوبرا پوسٹ کے سٹنگ آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنسنی خیزی نہیں بلکہ میڈیا کا سچ ہے۔ پیڈ میڈیا کے خلاف کارروائی کا پیش خیمہ بننا چاہیے۔ جن جن کے نام آئے ہیں وہ سب ٹی وی اخبار جانچ کے بعد بند ہونے چاہئیں۔