مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سعیدہ بیگم کا میدان جنگ
40 سال قبل سعیدہ کے خاوند ایک حادثہ میں ہلاک گئے تھے۔ وہ سُسرال میں موجود جائیداد سے بے دخل ہوگئیں اور چار چھوٹے چھوٹے بیٹوں کو لے کر سرینگر میں اپنے میکے آئیں جہاں انہیں ایک کوٹھری دی گئی۔ غسل خانے سے بھی تنگ کوٹھری میں رہائش پذیر سعیدہ بیگم کے لیے کشمیر ایک میدان جنگ ہے، جس میں ان کا سب کُچھ لُٹ گیا۔ بیٹے جوان ہوئے، کمانے لگے لیکن 1990 میں جب مسلح شورش شروع ہوئی تو ان کے تین بیٹے دو سال کے عرصے میں یکے بعد دیگرے تشدد کی مختلف وارداتوں میں ہلاک ہوگئے۔ اس صدمے کی وجہ سے ان کا چوتھا بیٹا ذہنی توازن کھو بیٹھا اور بالآخر لاپتہ ہوگیا۔ سعیدہ اشک آور لہجے میں کہتی ہیں: ’یہاں جنگ نہ ہوتی تو میں آج محتاج نہ ہوتی۔ میرے تو چار بیٹے تھے، میں ایک روٹی کے لیے کیوں ترستی اس جنگ میں سب کچھ ختم ہوگیا۔ سعیدہ جیسی ہزاروں خواتین کشمیر میں کشمیر کی جنگسے متاثر ہوئی ہیں۔ ان کی کفالت اور بازآباد کاری بہت بڑا انسانی مسئلہ بناہوا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ڈیڑھ ہزار ایسی خواتین ہیں جن کے خاوند لاپتہ ہوگئے۔ انہیں اب ہالف وڈو یا ’نصف بیوہ‘ کہا جاتا ہے۔ انہیں نہ توسسرال میں پناہ ملتی ہے نہ میکے میں۔ سعیدہ جیسی ہزاروں مائیں بھی ہیں جو اس جنگ زدہ سماج میں اپنے آپ کو تن تنہا پاتی ہیں۔ سعیدہ بیگم کے دو بیٹے نذیر احمد اور طارق احمد عسکریت پسندوں اور بھارتی فورسز کے درمیان فائرنگ میں ہلاک ہوگئے۔ ان دنوں شہری آبادیوں میں تصادم ہوتے تھے اور اکثر اوقات عام شہری کراس فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوتے تھے۔ ان کا تیسرا بیٹا اشتیاق احمد عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا اور ایک شام پولیس نے سعیدہ بیگم کو اطلاع دی کہ وہ بھی کراس فائرنگ میں مارا گیا۔ ان کی کفالت کا واحد سہارا نثار احمد کنبے میں ہونے والی اموات سے گہرے صدمے کا شکار ہوگیا اور ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ اسی حالت میں وہ لاپتہ ہوگیا اور اب سعیدہ تنہا ہوگئیں۔ ان کا کہنا ہے: ’25 سال سے میں لالٹین کا استعمال کرتی رہی۔ میری اس کوٹھری میں بجلی نہیں تھی، ایک وقت آیا جب میں چاہتی تھی کہ نہ روؤں لیکن بے ساختہ آنسو نکل آتے تھے۔ اب سعیدہ بیگم کو فاقہ کشی یا سیاہ راتوں کا سامنا نہیں ہے، لیکن انہیں شکایت ہے کہ ارباب اختیار نے ان کی خبرتک نہ لی۔ سماجی کارکن عبدالقیوم شاہ کہتے ہیں ایسا نہیں کہ ایسے متاثرین کی کوئی مدد نہیں کرتا۔ لیکن اصل مدد یہ ہے کہ انہیں انصاف ملے۔ دس سال قبل اُس وقت کی حکومت نے ایسے 180 معاملوں کی نشاندہی کی تھی، اور ضلع حکام کو ہدایات دی گئی تھیں کہ متاثرین کی مالی امداد اور سماجی بہبود کے لیے انتظام کیا جائے، لیکن بعد میں ان لوگوں کو اپنے رحم و کرم پر چھوڑا گیا۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز کے سربراہ پرویز امروز کہتے ہیں:’ ہم صرف وہی کیس لڑتے ہیں جس کے بارے میں متاثرہ شہری ہمارے پاس ذاتی طور پر رجوع کرے۔ کیونکہ کچھ معاملوں میں ایسا ہوتا ہے کہ متاثرہ خاندان حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتا ہے اور پھر کیس ختم ہوجاتا ہے۔ سالہا سال سے نہایت کم روشنی اور مسلسل آنسو بہانے کی وجہ سے سعیدہ بیگم بینائی کھوچکی ہیں۔ مفلسی اور بے چارگی کے باوجود سعیدہ بیگم زندگی سے ہارنا نہیں چاہتیں۔ انہوں نے سات سال قبل ایک بچہ گود لیا ہے جس کی پرورش کےلیے وہ وسائل جمع میں مصروف ہیں انکا کہنا ہےاس جنگ نے میرے چار بیٹے چھین لیے، اب آخری سانس تک اسی بچے کی دیکھ بھال کروں گی۔ مگر اس جنگ سے ڈرتی ہوں۔ (ریاض مسرور بی بی سی اردو ، سری نگر)