مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد: احتساب عدالت میں لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت ہوئی، واجد ضیاء کی جانب سے مختلف دستاویزات پیش کر دی گئیں۔ نواز شریف کی دائر متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ فلیگ شپ ریفرنس سے متعلق آف شور کمپنیوں کی دستاویزات اور امارات سفارتخانے کا جواب بھی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔مریم نواز کے وکیل نے واجد ضیاء کی دستاویزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دستاویزات تو عربی میں ہیں، شاید واجد ضیاء کو عربی سمجھ آئے، انھوں نے عربی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ جے آئی ٹی کے خطوط کے جواب میں برطانوی ایم ایل اے کا جوابی خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ امجد پرویز نے کہا کہ انھیں وہ خط نہیں دیے گئے جن کے جواب میں یہ خط آئے۔ کیسے پتہ لگے گا یہ کون سے خط کا جواب ہے۔مریم نواز کے وکیل نے کہا ہے کہ ریفرنس تین میں ملزمان کو دی جانے والی کاپی میں صفحہ 235، 243 اور والیم تین کے اضافی آٹھ صفحات کیوں غائب ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بائنڈنگ کے وقت کچھ صفحات رہ گئے ہوں گے، اضافی آٹھ صفحات فراہم کر دیں گے۔ مریم نواز کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خط کے بغیر صرف جواب کیسے ریکارڈ کا حصہ بن سکتا ہے؟ نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ بھیجے جانے والے خطوط والیم 10 میں ہیں۔واجد ضیاء نے نیلسن، نیسکال اور کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ کی فرانزک رپورٹ جبکہ کیپیٹل ایف زیڈ ای میں نواز شریف کی ملازمت سے متعلق اقامہ بھی احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ کیس کی مزید سماعت 22 مارچ کو ہو گی۔