مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد: احتساب عدالت میں لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت ہوئی، واجد ضیاء کی جانب سے مختلف دستاویزات پیش کر دی گئیں۔ نواز شریف کی دائر متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ فلیگ شپ ریفرنس سے متعلق آف شور کمپنیوں کی دستاویزات اور امارات سفارتخانے کا جواب بھی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔مریم نواز کے وکیل نے واجد ضیاء کی دستاویزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دستاویزات تو عربی میں ہیں، شاید واجد ضیاء کو عربی سمجھ آئے، انھوں نے عربی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ جے آئی ٹی کے خطوط کے جواب میں برطانوی ایم ایل اے کا جوابی خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ امجد پرویز نے کہا کہ انھیں وہ خط نہیں دیے گئے جن کے جواب میں یہ خط آئے۔ کیسے پتہ لگے گا یہ کون سے خط کا جواب ہے۔مریم نواز کے وکیل نے کہا ہے کہ ریفرنس تین میں ملزمان کو دی جانے والی کاپی میں صفحہ 235، 243 اور والیم تین کے اضافی آٹھ صفحات کیوں غائب ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بائنڈنگ کے وقت کچھ صفحات رہ گئے ہوں گے، اضافی آٹھ صفحات فراہم کر دیں گے۔ مریم نواز کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خط کے بغیر صرف جواب کیسے ریکارڈ کا حصہ بن سکتا ہے؟ نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ بھیجے جانے والے خطوط والیم 10 میں ہیں۔واجد ضیاء نے نیلسن، نیسکال اور کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ کی فرانزک رپورٹ جبکہ کیپیٹل ایف زیڈ ای میں نواز شریف کی ملازمت سے متعلق اقامہ بھی احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ کیس کی مزید سماعت 22 مارچ کو ہو گی۔