مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہمارا ٹی وی ۔۔ حسِ مزاح اور تمسخر میں فرق کرنے کی ضرورت۔
پاکستان ٹی وی اور ریڈیو سے وابستہ ماضی کی بڑی شخصیات کے انٹرویوز میں ایک بات مشترک ہوتی ہے کہ ان کے زمانے میں پروگرام ترتیب دیتے وقت بہت سوچ وچار کی جاتی تھی۔ ان پروگراموں کا مقصد محض تفریحی یا معلوماتی ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا تھا کہ اس کے نشریاتی مواد میں ایسا کچھ نہ ہو جو ہماری تہذیب و ثقافت اور قومی تشخص سے متصادم ہو۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن میں نو وارد فنکاروں کی زبان، ادااییگی اور لب و لہجہ پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ یہ بات میرے ذاتی مشاہدے میں بھی آیٓ ہے جب میں اپنے قایدِ اعظم یونیورسٹی کے زمانہٓ طالبعلمی میں ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے بطور فری لانس آرٹسٹ وابستہ تھا یہ دور اگرچہ کسی حد تک اپنے ماضی کی عظمتوں سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا تھا، لیکن تنزلی کی طرف بہرحال چل نکلا تھا خصوصاً جب ریڈیو سے گھنٹہ وار سروس شروع ہویؑ تھی اور جس میں پروڈیوسر خود ہی اپنے پروگرام لکھتا اور اپنی ہی آواز میں نشر کرتا تھا۔ پروڈیوسروں کی ایک بڑی تعداد صداکاری کا تجربہ نہیں رکھتی تھی جو انکے پیش کردہ پروگراموں سے عیاں تھا، لیکن نشریاتی مواد سے علم و دانش ضرور ٹپکتی تھی۔ ریڈیو پاکستان کے احاطہ میں فنکاروں اور پروڈیوسروں کی عام محافل میں ہونے والی گفتگو سے ادبی ذوق جھلکتا تھا جو نیےٓ فنکاروں کی تربیت کا سامان بھی ثابت ہوتا تھا۔ سٹیشن دایریکٹر سید محمد سعید نقشبندی انتہایٓ شفیق انسان تھے جن کے دفتر کا دروازہ کبھی بند نہیں دیکھا۔ وہ ہمیشہ پروڈیوسروں ، فنکاروں اور مہمانوں سے بھرا رہتا۔ پچھلے کا فی عرصہ سے مجھے انکا ایک جملہ پہت یاد آتا ہے جو وہ انگریزی اور اردو ملا کے بولا کرتے تھے کہ بعض لوگ سینس آف ہیومر کے نام پر سینس آف ہیمر کا ستعمال کرجاتے ہیں۔ مجھے انکا یہ جملہ ایکسپریس ٹی وہ پر آفتاب اقبال کا شو خبردار دیکھ کر یاد آتا ہے جس میں سٹیج کے اداکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ جو مزاحکاری کرتے وقت اکثر خواجہ سراوٓں کے بارے میں ایسے جملے کہہ جاتے ہیں، جو انکی تضحیک کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان جملوں پہ سامیعین و ناظرین قہقہوں کی صورت میں ان اداکاروں کو داد بھی دیتے ہیں اس وقت اگر خدا نخواستہ خواجہ سرا بھی یہ پروگرام دیکھتے ہوں، تو ذرا اندازہ کیجیےٓ کہ ان کیلیےؑ یہ ہیومر ہیمر بن کے کس طرح ان پہ برستا ہوگاَ۔ خواجہ سراوٓں کے علاوہ دیگر ذاتوں کا بھی تمسخر اڑایا جاتا ہے ۔ چھبیس فروری کے پروگرام میں معروف تھیٹر اداکار امان اللہ بطور مہمان شریک تھے جو اپنے ایک ساتھی کردار پہ جملہ کستے ہوےؑ کہتے ہیں ڈِنگے کھسرے ورگا تیرا منہہ ہے (ترجمہ) ٹیڑھے خواجہ سرا جیسا تیرا منہ ہے۔ خواجہ سراوٓں کا تمسخر اڑانے کے علاوہ وہ الفاظ جن کو عام گفتگو میں بطور گالی استعمال کیا جاتا ہے، ان پروگراموں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ مثلاً اسی چھبیس فروری والے پروگرام میں ہنی البیلا امان اللہ سے پوچھتے ہیں ، کیا آپ واقعی امان اللہ ہین؟، جس کے جواب میں امان اللہ کے سیکریٹری کا کردار ادا کرنے والے اداکار نے کہا تے ہور کی تیرا بھنویا اے (ترجمہ) تو کیا تیرا بہنویٓ ہے؟ دو مارچ کے خبردار میں ایک منظر ہوتا ہے جس میں ہنی البیلا نواز شریف کے انداز میں ایک تقریر کرتے ہوےؑ عوام سے کہتا ہے آیٓ لو یو، اس کے جواب میں ناصر چنیوٹی کہتا ہے، ایویں شیکسپیٓر دا سالا نہ بن (ترجمہ) یونہی شیکسپیٓر کا سالا نہ بن۔ ان کے علاوہ یہ اداکار ایک دوسرے کو انھی دیا یعنی اندھی کے (اندھی ماں کے بچے)، ماما یعنی ماموں بمعنی ابا کا سالا کہہ کر اکثر مخاطب کرتے ہیں۔ سٹیج اداکار خواجہ سراوٓں اور دیگر نسلی گروہوں کی تضحیک کی قیمت پر شو میں موجود سامیعین اور ٹی وی پر دیکھنے والے ناظرین کی ایک بڑی تعداد کو ہنساتے میں تو کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن کیا یہ ہنسا لینا ہی تحریر یا اداکاری کی کامیابی ہے؟ اس طرح کے اندازِ فکر و تفریح سے ہم بطور انسان اپنے آپکو بہت چھوٹا نہیں ثابت کر رہے؟ جن سماجی گروہوں کی ہم دلآزاری کرتے ہیں ، انکو حقارت اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہوےٓ ہم ان کے سماجی اخراج کا باعث نہیں بن رہے ؟ آفتاب اقبال جو اپنے پروگراموں میں بڑی حد تک تعلیمی اور تربیتی مواد بھی شامل کرتے ہیں، لیکن صرف اور صرف تمسخر کی شمولیت پروگرام کی روح ختم کردیتا ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے جیسے سٹیج اداکار آفتاب اقبال کی ہدایات یا دی گیٓ لاین کو سمجھ نہیں پاتے یا انکی تخلیق کاری صرف یہیں تک محدود ہے۔ اس طرح کا ہنسنا ہنسانا سٹیج کی حد تک تو قبول کیا جا سکتا ہے کیونکہ جو کویٓ ایسا ذوق رکھتا ہو وہ خود ٹکٹ خرید کر وہاں پہنچ سکتا ہے، لیکن ٹی وی تو گھروں کے اندر ہوتا ہے جو ساری فیملی کے افراد دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ذرایع ابلاغ سے وابستہ پیشہ وروں کو اس سوال کا جواب بہرحال ڈھونڈنا ہوگا کہ کیا مزاح صرف ہسنا ہنسانا ہی ہوتا ہےِ، اگر ہنسنے کیلیےٓ کویٓ اچھی بات میسر نہ ہو تو کیا کچھ بھی کہہ کر ہمیں ہنسنے کی اداکاری کرنی چاہیےٓ؟ کیا ہم مزاح سے تمسخر کا عنصر الگ کر سکتے ہیں؟ اب ٹی وی جب ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے، کیا ٹی وی کو اچھے مہمان کی طرح گھر کے آداب کو ملحوظ رکھنا چاہیےٓ یا گھروں کی بچی کھچی اقدار پر حملہ آور ہوجانا چاہیےٓ؟ کیا ہم معلومات اور تفریح کے ساتھ ساتھ انفرادی اور معاشرتی کردار سازی اور گفتگو میں شایستگی کو پروان نہیں چڑھا سکتے؟ اگر ذرایعِ ابلاغ نے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہ کیا اور جس طرح ہمارا مزاح اور مزاج ترقیٓ معکوس کی راہ پر گامزن ہے، آنے والے دنوں میں ہماری زبان اور ثقافت کیسی ہوگی، اسکا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ۔