مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
غیر مرئی مخلوق کا تعاقب انسانوں کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے: آنجہانی اسٹیفن ہاکینگ
لندن ... موجودہ صدی کے نامور سائینسدان اسٹیفن ہاکنگ اپنی زندگی ہی میں عوام کو خبردار کرگئے تھے کہ غیر مرئی مخلوق کی کھوج میں پڑنے کی ضرورت نہیں ورنہ یہ آپ ہی کے نقصان کا باعث ہوگی۔ مرحوم سائینسدان جنکا گذشتہ روز برطانیہ میں انتقال ہوا خدا کو نہ ماننے والوں میں سے تھے تاہم اسی خدا کے دیئے گئے ذہن سے وہ معذوری کے باوجود طبیعات کی دنیا میں بڑا کام کرگئے۔ آنجہانی برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ جاتے جاتے غیر زمینی مخلوق کےخطرے سے خبردار کرگئے اور آخری نصیحت کی کہ انسانوں کا اجنبی مخلوق سے رابطہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ آنجہانی اسٹیفن ہاکنگ نے آخری نصیحت کی تھی کہ کائنات میں ہم اکیلے نہیں، کوئی اور بھی ہے، اس اجنبی مخلوق سے رابطہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ برطانوی سائنسدان نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ انسان جس مخلوق کی کھوج میں ہے، وہ اس کےلیے تباہی لائے گی۔ ایسی کوئی مخلوق زمین پر آئی تو وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد ریڈ انڈینزکے ساتھ ہوا تھا۔ پروفیسر ہاکنگ نے کہا تھا کہ اجنبی مخلوق سے رابطوں کی کوشش کے بجائے ان سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سائنسدانوں نے خلا میں ایسے مشن بھیجے ہیں، جن پر انسانوں کی تصویریں اورزمین تک پہنچنے کے نقشے تھے، ممکنہ خلائی مخلوق سے رابطے کے لیے ریڈیو بیمز بھی بھیجی گئی ہیں۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دنیا کے جانے مانے سائنسداں اسٹیفن ہاکنگ گذشتہ روز 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے، وہ نوجوانی میں ہونے والی موزی مرض کے باعث طویل عرصے سے معذوری کا شکار تھے۔ ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد پچھلی صدی کا سب سے بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا مخصوص شعبہ بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی (کونیات) ہے۔ اکیس برس کی عمر میں ان پر پہلی دفعہ’ایمیو ٹراپک لیٹیرل سکیلیروسز ‘ نامی مرض کا حملہ ہوا جس میں مریض کے تمام اعضا آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ صرف مریض ہی کے لیے نہیں اس کے عزیز و اقارب کے لیے بھی ایک انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے جس میں انسان سسکتے ہوئے بہت بے بسی سے موت کی طرف بڑھتا ہے۔ ڈاکٹرز کے اندازوں کے مطابق وہ صرف 2 برس اور جی سکتا تھا۔ اس کے والدین نے گہری تشویش میں کیمبرج یونیورسٹی رابطہ کیا کہ آیا وہ اپنا پی ایچ ڈی مکمل کر سکے گا؟ تو یونیورسٹی کا جواب زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا مگر اس بالشت بھر کے انسان نے جس کی کل کائنات ایک ویل چیئر اور اس پر نصب چند کمپیوٹر سسٹمز اور ایک سکرین تھی نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اسٹیفن کی کتاب ’وقت کی مختصر تاریخ‘ بریف ہسٹری آف ٹائم سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے تاہم یہ واضع نہیں کہ کتنے لوگوں نے اسے آخری صفحے تک پڑھا۔ (رپورٹ و تحقیق: راجہ عمران ظہور)