مقبول خبریں
مکس مارشل آرٹ کونسل اور چیریٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایجنٹ کو زہر دینے کا الزام، برطانیہ کا روسی سفارتکاروں کو نکالنے کا فیصلہ
لندن: برطانوی وزیرِ اعظم نے روسی خفیہ ادارے کے سابق افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتہ دیا گیا ہے اور یہ سفارتکار وہ انٹیلی جنس افسر ہیں جن کی شناخت مخفی رکھی گئی۔ تاہم دوسری جانب روس نے سابق انٹیلی جنس افسر 66 سالہ سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا کو زہر دینے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔یاد رہے کہ روس کو برطانیہ کی جانب سے ایک سابق ڈبل ایجنٹ پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کی وضاحت کے لیے منگل تک کا وقت دیا تھا۔ وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ عین ممکن ہے کہ برطانیہ میں سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو روس میں تیار کردہ اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی مواد دیا گیا ہو۔ٹریزا مے نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی منسوخ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اعلان کیا گیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔ دوسری جانب روس نے برطانوی اقدام کی مذمت قرار دیتے ہوئے اسے بلا جواز قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ برطانیہ کے شہر سیلسبری کے سٹی سینٹر میں روس کے سابق خفیہ ایجنٹ سرگئی اور ان کی بیٹی کو نڈھال حالت میں پایا گیا تھا، دونوں کی حالت نازک ہے جبکہ ان دونوں کی دیکھ بھال کرنے والے سارجنٹ نک بیلی بھی بیمار ہو گئے ہیں۔