مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
روشنی
حضرت ابوبکر صدیقؓ رسول اللہؐ کے حلیف تھے، آپ کا اسم مبارک عبداللہ تھا، ابوقحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن مصری بن غالب القرشی الیتمی کے بیٹے تھے۔آپ کا سلسلہ نسب رسول اللہؐ کے ساتھ مرہ بھی جاملتا ہے، نووی تہذیب میں لکھتے ہیں ہم نے حجر ابوبکرؓ کا نام عبداللہ بیان کیا ہے یہی صحیح اور مشہور ہے اور بعض کہتے ہیں کہ آپ کا نام عتیق تھا مگر درست اور صحیح بات جس تمام علماء کا اجماع ہے یہ ہے کہ عتیق آپ کا نام نہیں تھا بلکہ لقب تھا اور یہ لقب آپ کا عتیق من النار یعنی دوزخ کی آگ سے آزاد ہونے کی وجہ سے ہوا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے جسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور حاکم حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا یاابابکر انت عتیق اللہ من النار یعنی اے ابوبکر تو دوزخ کی آگ سے خدا تعالیٰ کا آزاد کیا ہوا ہے،پس اسی روز سے آپ کا نام عتیق ہو گیا۔ حاکم نے مستدرک میں حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ مشرکین حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس آئے اور کہاکہ اب بھی تو اپنے دوست حضرت محمدؐ کے ساتھ رغبت رکھے گا جبکہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں رات کو بیت المقدس پہنچایا گیا تھا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ یہ آپؐ نے ارشاد فرمایا ہے، مشرکین نے جواب دیا ہاں، تو آپ کیا پھر آپ نے سچ کہا ہے کیونکہ میں اس سے بڑھ کر اگر آپ کہیں کہ میرے پاس صبح وشام آسمان کی خبریں آتی ہیں اس میں بھی آپ کو سچا جانتا ہوں، اسی لئے آپ کا نام صدیق ہے۔ صحابہ اور تابعین وغیرہ کی ایک جماعت کہتی ہے حضرت ابوبکرؓ سب سے پہلے اسلام لائے ہیں بلکہ بعض نے تو اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہؓ سب سے پہلے مشرف بااسلام ہوئی ہیں اور ان اقوال میں تطبیق اس طرح کی گئی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لائے حضرت علیؓ لڑکوں میں سے اور حضرت خدیجہؓ عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لائی ہیں، یہ تطبیق امام اعظم ابوحنیفؒ نے دی ہے۔ امام احمد ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا جیسا مجھے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مال نے نفع دیا ہے ایسا مجھے کسی کے مال نے نفع نہیں دیا یہ سن کر حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ رو پڑے اور عرض کیا، یارسول اللہؐ میں اور میرا مال آپ ہی کیلئے ہے، ابویعلیٰ نے بھی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔ ابودائود اور ترمذی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہؐ نے ہمیں کچھ مال صدقہ کرنے کا فرمایا اور ان دنوں میں میرے پاس بہت سا مال موجود تھا، میں نے دل میں کہا اگر میں صدیق اکبر سے بڑھ سکتا ہوں تو آج بڑھ سکتا ہوں، یہ سوچ کر میں نے اپنا نصف مال خدمت نبوی میں لاحاضر کر دیا تو رسول اللہؐ نے فرمایا اپنے اہل کیلئے کتنا مال باقی چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کی اتنا ہی،اس کے بعد ابوبکر صدیقؓ اپنا تمام مال لیکر حاضر ہوئے تو رسول اللہؐ نے فرمایا اے ابوبکر، تو نے اپنے اہل کیلئے کتنا مال چھوڑا ہے؟ آپ نیع رض کیا میں نے ان کیلئے اللہ اور اس کا رسول باقی چھوڑا ہے، یہ سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں حضرت صدیق اکبرؓ سے کبھی نہیں بڑھ سکتا (ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے) ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ تمام صحابہ اکرام کی موجودگی میں انہیں امام بنایا تھا اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ امامت وہ شخص کرائے جسے قرآن مجید کا سب سے زیادہ علم ہو۔ بخاری روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر فرماتے ہیں ہم عہد رسول اللہؐ میں صحابہ اکرام میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں پھر حضرت عمرؓ پھر حضرت عثمان غنیؓ اور طبرانی نے کبیر میں اس قدر اور زیادہ کیا ہے کہ نبیؐ کو اس بات کی خبر ہوئی تھی اور آپ اسے برا نہ مناتے تھے۔