مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسلمانوں کو نقصان پہچانے والے خطوط بھیجنے والوں کی تلاش کیلئے برطانوی فورسز متحرک
لندن:برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی کی پولیس ملک کے مختلف شہروں میں متعدد افراد کو ملنے والے اس نفرت انگیز خط کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جس میں مسلمانوں پر حملوں کی ترغیب دی گئی ہے۔اس خط میں 3 اپریل کو ’پنش اے مسلم ڈے‘ یعنی مسلمانوں کو سزا دینے کا دن، کے طور پر منانے کا کہا گیا ہے۔خط میں مسلمانوں کے خلاف مختلف پرتشدد اقدامات اور ان کے نتیجے میں ملنے والے ’پوائنٹس‘ کا ذکر ہے۔نفرت پر مبنی اس خط کے حوالے سے لندن پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے افسران اس خط کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق ان کو اس حوالے سے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس کے چیف سپریٹینڈینٹ مارٹن سنوڈن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مذہب کی بنیاد پر نفرت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور افسران اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کی مکمل تحقیقات کریں گے۔مارٹن سنوڈن کے بقول ’ ان خطوط کا مقصد مسلمانوں کو ڈرانا اور ان کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،برطانیہ میں مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر نظر رکھنے والے فلاحی ادارے ’ٹل ماما‘ کے مطابق اس حوالے سے انھیں مختلف شہروں سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ٹل ماما کے مطابق اس خط میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جس کے بعد ملک کی مسلمان کمیونیٹی میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔برطانیہ میں حکمران جماعت کے ممبر پارلیمنٹ اور وزیر برائے لوکل گورنمنٹ ساجد جاوید نے اس بارے میں ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’مسلم مخالف خطوط کے حوالے سے پریشان کن اطلاعات سامنے آئی ہیں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ برطانوی مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ حملوں کے خوف سے آزاد زندگی گزار سکیں، ہم نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے۔ا بھی تک پاکستانی نژاد مسلمان رکنِ پارلیمنٹ محمد یاسین سمیت چار مسلم ایم پیص کو مشکوک پارسل موصول ہوچکے جنہیں پولیس نے قبضے میں لے لیا تھا تاہم ان پارسلز سے کوئی نقصان دہ چیز برآمد نہیں ہوئی۔ (خصوصی رپورٹ: مونا بیگ)