مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب، اپوزیشن اتحاد جیت گیا
اسلام آباد:بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کو پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، فاٹا اراکین اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل تھی۔ ڈپٹی چیئرمین کیلئے سلیم مانڈوی والا اور عثمان کاکڑ کے درمیان مقابلہ تھا۔سینیٹ میں اپوزیشن کے اتحاد نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کو بالاخر نیا چیئرمین سینیٹ منتخب کرا لیا ہے۔ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونے والے انتخاب میں 103 سینیٹرز نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ صادق سنجرانی کو 57 جبکہ ان کے مدمقابل حکومتی اتحاد کے امیدوار راجا ظفر الحق صرف 43 ووٹ حاصل کر پائے۔ سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر نے نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے حلف لیا جس کے فوری بعد انہوں نے ایوانِ بالا کے قائد کی نشست سنبھال لی۔اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں اپوزیشن کی جانب سے سلیم مانڈوی والا اور حکومتی اتحاد کی جانب سے عثمان کاکڑ مدمقابل آئے۔ سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے جبکہ عثمان کاکڑ 44 ووٹ حاصل کر پائے۔ خیال رہے کہ ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے حصہ نہیں لیا۔بلوچستان کے علاقے چاغی سے تعلق رکھنے والے نومنتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا تاہم وہ سابق وزرائے اعظم میاں محمد نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے کوآرڈینیٹر رہ چکے ہیں۔ صادق سنجرانی 1998ء میں میاں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر رہے جبکہ بعد ازاں 2008ء میں اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا جس کے بعد وہ پانچ سال تک اسی منصب پر فائز رہے۔ رپورٹس کے مطابق صادق سنجرانی سابق صدر آصف علی زرداری سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا سینیٹ سے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ میں آصف زرداری اور عمران خان سمیت تمام دوستوں کا مشکور ہوں، ایوانِ بالا میں سب کو ساتھ لے کر چلوں گا اور کسی کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دونگا۔ صوبہ بلوچستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرونگا۔ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ میں وزیرِ اعلی بلوچستان کا مشکور ہوں جنہوں نے میرا انتخاب کیا۔