مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
نئے سعودی قانون کے نفاذ کے بعد غیر ملکی ورکرز کا انخلا جاری، جھڑپوں میں2ہلاک متعدد زخمی
ریاض ...سعودی حکومت کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد تارکین وطن کی بڑی تعداد ملک چھوڑ کر اپنے اپنے وطن روانہ ہو رہی ہے۔ کاغذات کی درستگی کیلئے دئے گئے وقت میں توسیعی مدت بھی ختم ہونے کے بعد سعودی لیبر منسٹری کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ غیر قانونی افراد کو گرفتار کرکے جرمانہ کریں یا جیل میں بند کردیں۔ اس حوالے سے سعودی پولیس حکام اور واپس جاری والے مایوس اور بپھرے ورکرز میں تصادم کی اطلاعات بھی ہیں۔ دارالحکومت ریاض کے ایک علاقے میں ایسےتصادم میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گیے ہیں۔ پولیس کے مطابق منفوحہ کے علاقے میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی سعودی شہری کے طور پر شناخت کرلی گئی ہے جبکہ دوسرے شخص کو شناخت نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس واقعے میں 70 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔ دنیا بھر سے کام کیلئے آئے افراد میں ایک بڑی تعداد مسلمان خواتین کی بھی ہے جن کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کچھ عرب ریاستوں سے ہے جنہیں ملک چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب میں رواں برس ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تین نومبر تک اپنی ویزا دستاویزات درست کر لیں یا ملک سے نکل جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سیکورٹی اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں چھاپہ مار کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ایشیائی ممالک کے علاوہ یمن، مصر، لبنان اور ایتھوپیا جیسے عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے محنت کش لوگ سعودی عرب کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے ملکوں کے لیے بھی زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں 80 لاکھ کے قریب غیر ملکی ملازمین ہیں اور نئے قوانین کے نفاذ کے بعدسترہ لاکھ سے زائد غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ کر جا چکے ہیں۔