مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نئے سعودی قانون کے نفاذ کے بعد غیر ملکی ورکرز کا انخلا جاری، جھڑپوں میں2ہلاک متعدد زخمی
ریاض ...سعودی حکومت کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد تارکین وطن کی بڑی تعداد ملک چھوڑ کر اپنے اپنے وطن روانہ ہو رہی ہے۔ کاغذات کی درستگی کیلئے دئے گئے وقت میں توسیعی مدت بھی ختم ہونے کے بعد سعودی لیبر منسٹری کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ غیر قانونی افراد کو گرفتار کرکے جرمانہ کریں یا جیل میں بند کردیں۔ اس حوالے سے سعودی پولیس حکام اور واپس جاری والے مایوس اور بپھرے ورکرز میں تصادم کی اطلاعات بھی ہیں۔ دارالحکومت ریاض کے ایک علاقے میں ایسےتصادم میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گیے ہیں۔ پولیس کے مطابق منفوحہ کے علاقے میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی سعودی شہری کے طور پر شناخت کرلی گئی ہے جبکہ دوسرے شخص کو شناخت نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس واقعے میں 70 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔ دنیا بھر سے کام کیلئے آئے افراد میں ایک بڑی تعداد مسلمان خواتین کی بھی ہے جن کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کچھ عرب ریاستوں سے ہے جنہیں ملک چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب میں رواں برس ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تین نومبر تک اپنی ویزا دستاویزات درست کر لیں یا ملک سے نکل جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سیکورٹی اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں چھاپہ مار کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ایشیائی ممالک کے علاوہ یمن، مصر، لبنان اور ایتھوپیا جیسے عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے محنت کش لوگ سعودی عرب کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے ملکوں کے لیے بھی زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں 80 لاکھ کے قریب غیر ملکی ملازمین ہیں اور نئے قوانین کے نفاذ کے بعدسترہ لاکھ سے زائد غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ کر جا چکے ہیں۔