مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نئے سعودی قانون کے نفاذ کے بعد غیر ملکی ورکرز کا انخلا جاری، جھڑپوں میں2ہلاک متعدد زخمی
ریاض ...سعودی حکومت کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد تارکین وطن کی بڑی تعداد ملک چھوڑ کر اپنے اپنے وطن روانہ ہو رہی ہے۔ کاغذات کی درستگی کیلئے دئے گئے وقت میں توسیعی مدت بھی ختم ہونے کے بعد سعودی لیبر منسٹری کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ غیر قانونی افراد کو گرفتار کرکے جرمانہ کریں یا جیل میں بند کردیں۔ اس حوالے سے سعودی پولیس حکام اور واپس جاری والے مایوس اور بپھرے ورکرز میں تصادم کی اطلاعات بھی ہیں۔ دارالحکومت ریاض کے ایک علاقے میں ایسےتصادم میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گیے ہیں۔ پولیس کے مطابق منفوحہ کے علاقے میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص کی سعودی شہری کے طور پر شناخت کرلی گئی ہے جبکہ دوسرے شخص کو شناخت نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس واقعے میں 70 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔ دنیا بھر سے کام کیلئے آئے افراد میں ایک بڑی تعداد مسلمان خواتین کی بھی ہے جن کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کچھ عرب ریاستوں سے ہے جنہیں ملک چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب میں رواں برس ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تین نومبر تک اپنی ویزا دستاویزات درست کر لیں یا ملک سے نکل جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سیکورٹی اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں چھاپہ مار کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ایشیائی ممالک کے علاوہ یمن، مصر، لبنان اور ایتھوپیا جیسے عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے محنت کش لوگ سعودی عرب کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے ملکوں کے لیے بھی زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں 80 لاکھ کے قریب غیر ملکی ملازمین ہیں اور نئے قوانین کے نفاذ کے بعدسترہ لاکھ سے زائد غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ کر جا چکے ہیں۔