مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برما مسلمانوں کی نسل کشی، آنگ سان سوچی اہم ايوارڈ سے محروم
لاہور:روہنگيا مسلمانوں کی نسل کشی اور مبينہ قتل عام پر ميانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی پراسرار خاموشی،امريکی ہولوکاسٹ ميوزيم کی جانب سے ديا گيا اعلیٰ ترين سويلين ايوارڈ واپس ليا جا رہا ہے۔امريکا ميں "دا ہولوکاسٹ ميوزيم" کی جانب سے اعلان کيا گيا ہے کہ آنگ سان سوچی کو سن 2012 ميں ديا جانے والا "ايلی ويزل" ايوارڈ ان سے واپس ليا جا رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران يورپی شہريوں اور بالخصوص يہوديوں کے قتل عام کی روداد بيان کرنے والے اس عجائب گھر نے يہ فيصلہ ميانمار کی راکھين رياست ميں روہنگيا مسلم اقليت کے خلاف جاری مبينہ مظالم کی وجہ سے کیا ہے۔ہولوکاسٹ ميوزيم روہنگيا مسلمانوں کے قتل عام پرپچھلے کچھ عرصے سے عالمی سطح پر آواز بلندکر رہا ہے۔ اس سلسلے ميں ميوزيم کی جانب سے پچھلے سال نومبر ميں ايک رپورٹ بھی جاری کی گئی تھی، جس ميں يہ لکھا ہوا تھا کہ ميانمار ميں فوج اور بدھ انتہا پسندوں کی جانب سے نسل کشی کے واضح ثبوت موجود ہيں۔ انہیں حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے عجائب گھر کی انتظامیہ نے برما کی رہنماء سوچی کو خط ارسال کیا ہے جس میں ميانمار کی حکومت کی جانب سے روہنگيا مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم اور اقوام متحدہ کے تفتيش کاروں کی راہ ميں رکاوٹيں ڈالنے پر احتجاج کیا گیا ہے۔میوزیم کی انتظامیہ نے سوچی سے ایوارڈ واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ميانمار کی حکومت نے میوزیم کی جانب سے ايوارڈ واپس ليے جانے کے فيصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔