مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیر اعظم بننے کے بعد نواز شریف کا جی ایچ کیو کا پہلا دورہ، یادگارِ شہدا پر پھول چڑھائے !!
اسلام آباد ... وزیر اعظم پاکستان آئندہ ماہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والی آرمی چیف سے ملاقات کیلئے جنرل ہیڈ کوارٹرز پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم کو جی ایچ کیو پہنچنے پر گارڈ آف آنر دیا گیا اور انہوں نے شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے۔ اسی سال مئی میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ میاں نواز شریف کا بّری فوج کے ہیڈ کوارٹر کا پہلا دورہ ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے جی ایچ کیو میں کہا کہ ’’پاکستان کی مسلح افواج کا ہر سپاہی اور افسر جذبہ ایمانی کے ساتھ میدان میں اترتا ہے یہی اس کی اصل قوت اور سب سے بڑا ہتھیار ہے۔‘‘ جی ایچ کیو میں وزیر اعظم کو سکیورٹی اور پیشہ وارانہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی دی گئی۔ کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حکومتی کوششوں اور نومبر کے آخر میں جنرل کیانی کے ریٹائر ہونے کے حوالے سے اس دورے کو خاص اہمیت حاصل تھی، اس دورے کو گزشتہ روز جماعت اسلامی کیطرف فوج کے سیاسی کردار کو ہدف تنقید بنانے کے حوالے سے بھی اہمیت حاصل تھی کیونکہ حکمران جماعت نے اس حوالے سے کوئی موقف پیش نہ کیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو میں کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات اور حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ واضح رہے کہ حکیم اللہ محسود کے بعد سوات طالبان کے امیر فضل اللہ تحریک کے نئے امیر منتخب ہوئے ہیں۔ امیر مقرر ہونے کے بعد انہوں نے سکیورٹی فورسز، حکومتی شخصیات اور سرکاری املاک پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ جنرل کیانی نے پچھلے ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 28 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ تاہم ابھی تک حکومت نے نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان 28 نومبر کو ہو گا جس روز جنرل کیانی ریٹائر ہوں گے۔