مقبول خبریں
ایسٹرن پویلین ہال اولڈہم میں آزادکشمیر میں قائم اسلام ویلفیئر ٹرسٹ کے سالانہ چیرٹی ڈنر کا انعقاد
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
سری لنکا میں مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد ریاستی ایمرجنسی نافذ
کولمبو: سری لنکا میں مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد 10 روزہ ریاستی ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ بدھوں نے مسلمانوں کے گھر اور دکانیں نذر آتش کردیں۔سری لنکا کے شہر کینڈی میں مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ بدھوں نے مسلمانوں کے گھر اور دکانوں کو آگ لگادی ہے۔ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور مالی نقصان کے بعد حکومت نے حالات کنٹرول کرنے کے لیے 10 روزہ ریاستی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پولیس نے علاقے میں کرفیولگادیا ہے۔سری لنکن حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کینڈی سے پھوٹنے والے فسادات نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے بعد بدھ آبادی اور مسلم آبادی کے کئی گھروں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔مشتعل بدھ پرستوں نے ایک مسجد کو بھی آگ لگا دی۔ مسلمانوں اور بدھوں کے درمیان کشیدگی گزشتہ سال شروع ہوئی تھی، جب بدھوں نے الزام لگایا کہ مسلمان لوگوں کو اپنا مذہب بدلنے پر مجبور کررہے ہیں۔ بدھ روہنگیا مسلمانوں کے سری لنکا میں پناہ لینےکے بھی خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ سری لنکا میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 9 فیصد ہے۔ بدھ مت ماننے والوں کی تعداد 75 فیصد ہے اور 13 فیصد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔