مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سپریم کورٹ نے دوہری شہریت والے سینیٹرز کا نوٹی فیکیشن روک دیا
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے دُہری شہریت کے حامل چار نومنتخب سینیٹرز کے نوٹیفکیشن روک دیئے، چیف جسٹس نے چودھری سرور، ہارون اختر، سعدیہ عباسی اور نزہت صادق کو طلب کر لیا، تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کرے گا۔سینیٹ کے چار ارکان کی دُہری شہریت نکل آئی۔ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چودھری سرور، سعدیہ عباسی، نزہت صادق اور ہارون اختر دہری شہریت رکھتے ہیں، جس پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو دہری شہریت رکھنے والے نومنتخب سینٹرز کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دینے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا چاروں نومنتخب سینیٹرز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیتے ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ہارون اختر نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ وہ دُہری شہریت نہیں رکھتے جبکہ وزارتِ داخلہ ڈویژن کے مطابق ہارون اختر کینیڈا کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔دوسری جانب دُہری شہریت کے حوالے سے اٹارنی جنرل آفس کے سپریم کورٹ میں بیان پر تحریک انصاف کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس سے غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں کر سکتے۔ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں بیان دینے سے پہلے حقائق کی پڑتال اٹارنی جنرل آفس کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری تھی۔ چودھری سرور 2013ء میں اپنی برطانوی شہریت ترک کر چکے ہیں، ان کے پاس برطانوی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس کے بیان میں مخفی سیاسی عزائم و امکانات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں، خدشات درست ثابت ہوئے تو ذمہ داروں کو جواب دینا ہو گا۔