مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جرمن کمپنی کے اشتہار میں باحجاب ماڈل پرعوام کا شدید ردِعمل
لاہور: ایک جرمن کمپنی نے اپنی ویجیٹیرین جیلی کی تشہیر کے لیے ایک ماڈل کی حجاب کے ساتھ تصویر شائع کی ہے، جس پر کمپنی کو شدید ردِ عمل کا سمنا کرنا پڑ رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق کاٹیاز نامی کمپنی نے اپنی ویجیٹیرین جیلی کے لیے ایک باحجاب ماڈل کا استعمال صرف اس لیے کیا ہے تاکہ اس جیلی کو مسلمان اور سبزی خور بھی خریدیں۔اس اشتہار پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت نے کہا ہے کہ یہ اشتہار خواتین پر جبر کی تشہیر کرتا ہے اور جرمنی کی اسلامائزیشن کے خلاف ہے۔ پارٹی کے ایک رکن پارلیمان فرانک پاسیمان نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ’’یہ اشتہار کیا پیغام دیتا ہے؟ یہ پراڈکٹ صرف حجاب پہننے والی خواتین خریدیں۔حقوقِ نسواں کے لیے سرگرم افراد اور مسلمان خواتین نے بھی اس اشتہار کی مخالفت کی ہے۔عام طور پر جیلی میں جیلیٹین ہوتی ہے۔ مسلمان حرام ہونے کے خدشے کی وجہ سے ایسی جیلیز سے اجتناب برتتے ہیں۔ جرمن میں ایسے لوگوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو سبزی خور ہیں۔اس کمپنی نے یہ اشتہار ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی انتونی سے بنوایا ہے۔ اس اشتہار میں جو ماڈل دکھائی گئی ہیں وہ نہ تو مسلمان ہیں اور نہ عام زندگی میں حجاب پہنتی ہیں۔کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس اشتہار کا مقصد اپنی مصنوعات کے متعلق جرمن مارکیٹ میں نئے صارفین تک معلومات پہنچانا ہے۔کئی مسلمانوں نے ماڈل پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ایک جعلی مسلمان خاتون دکھائی ہے اور یہ اشتہار نسل پرستی پر مبنی سرمایہ داری ہے۔