مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آزاد کشمیر حکومت کو با اختیار بنانا تحریک آزادی کیلئے نا گزیر اقدام ہے: ڈاکٹر مسفر حسن
برنلے:کشمیر کونسل کا خاتمہ اور حکومت آزاد کشمیر کو با اختیار بنانا تحریک آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کیلئے انتہائی ضروری ہے،اگر ایسا اقدام اٹھا لیا گیا تو یہ جموں کشمیر اور پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا،مفاداتی ٹولہ اور شعبدہ باز عوام کی آزادی کو غلط ناموں سے منسوب کر کے اپنی تاریخ سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں،جموں کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ و یورپ آزاد کشمیر حکومت کو با اختیار بنانے کے ہر اقدام کی بھرپور حمایت کرتی ہے،جموں کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ و یورپ کے صدر ڈاکٹر مسفر حسن نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کو با اختیار بنانا تحریک آزادی اور موجودہ حالات میں خود پاکستان کی سالمیت کیلئے ایک نا گزیر اقدام ہے،انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جو قربانیاں دی ہیں ایسی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اس ساری تحریک میں کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی کی حیثیت کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے دنیا نے کشمیریوں کی اس طرح حمایت نہیں کی جو اسکا حق تھا،اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کشمیر کونسل کے خاتمے کے حوالے سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ مشکل میں گھرے کشمیریوں کے لئے تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے جہاں آزاد کشمیر کے رہنے والوں کو مالیاتی فائدہ پہنچے گا وہاں آزاد کشمیر اسمبلی کو آئین سازی کا اختیار بھی حاصل ہو گا،انہوں نے کہا کہ کے ایچ خورشید سے اپنی تمام سیاسی زندگی کی جدو جہد میں حکومت پاکستان سے اسی بات کا مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر حکومت کو با اختیار نمائندہ حیثیت سے تسلیم کیا جائے،اس اقدام سے حکومت پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے جن مسائل کا سامنا ہے اس میں بھی کمی آئے گی اور پاکستان کا دفاع مضبوط ہونے کے قوی امکانات روشن ہوں گے،اس ضمن میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے رکن آزاد کشمیر اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر کے بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سوچ کے لوگ در اصل پاکستان دشمن اور جموں کشمیر کے عوام کی آزادی کے دشمن ہیں جو لاڑکانہ کے جاگیر دار خاندان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے بے سروپا بیانات جاری کر کے کشمیریوں کی تاریخ اور تحریک سے نا بلد ہونے کا اظہار کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کر کے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر