مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ووٹ حاصل کرنے کے لالچ میں ووٹر کی خدمت بھی جرم، پتہ تو ہے مگر خیال رکھنا ضروری!!
مانچسٹر ...مہمانداری ایشیائی افراد کے خون میں اچی بسی ہوتی ہے شائد اس حقیقت کو جانتے ہوئے برطانیہ میں متحرک ایشیائی سیاستدانوں کی پارٹیوں کی نظر انداز کر دیا جاتا ہے ورنہ ایسی بھی مثال موجود ہے کہ ایسکس کی ایک کونسلر کو تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے الیکشن کے دوران معمر ووٹرز کو جائے اور بسکٹ اس نیت سے پیش کئے کہ ان سے ہمدردی کے ووٹ حاصل کئے جایئں۔ کونسلر سوسن شنک کو الیکشن سے قبل چائے اور کیک کے عوض پنشنرز کے ووٹ خریدنے کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ معروف برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق کونسلر سوسن شنک سٹیفورڈ کلیز میں اپنی سیٹ پر فاتح قرار دینے سے قبل پکی ہوئی اشیاء ایک شیلٹرڈ ہائوسنگ کمپلیکس لے گئی تھیں جس پر ان کے مخالفین کی پولیس کو کی گئی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوسن کی ووٹوں پر اثر اندوز ہونے کی کوشش میں" ٹریٹنگ " سے انتخابی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے ایسیکس پولیس اب الزام کی تحقیقات کررہی ہے جو کہ ر پریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ 1983 کی شق 114 کے تحت ارتکاب جرم کے زمرے میں آتا ہے اگر ان کے خلاف الزام ثابت ہوگیا تو انہیں ایک سال تک کی سزا یا جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ صورتحال ان ایشیائی سیاستدانوں کیلئے ضرور الارمنگ ہوگی جو چائے بسکٹ چھوڑ ڈنر پارٹیوں پر بھی ووٹرز کو بلانے میں عار محسوس نہیں کرتے نیتوں کا حال تو بہرحال خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن آجکل ذاتی مخالفتیں جس طرح عروج پر ہیں اندر کے لوگ ہی بھانڈا پھوڑ سکتے ہیں کہ ووٹرز کی خدمت صرف الیکشن کے دوران یا کچھ روز قبل ہی کیوں؟