مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ممبئی حملے ایک سازش: بھارت، امریکا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب
اسلام آباد: مشہور جرمن مصنف ایلیس ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں کی سازش بے نقاب کر دی ہے۔ ان کی نئی تصنیف میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ممبئی حملہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ اس کی منصوبہ بندی، ہدایات اور عملی جامہ پہنانے میں بھارت، امریکا اور اسرائیل شامل تھے۔شہرہ آفاق جرمن مصنف ایلیس ڈیوڈسن نے ممبئی حملے میں بھارت، امریکا اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ جرمن مصنف نے اپنی نئی کتاب بھارت کی دھوکا دہی، 26 نومبر کے ثبوتوں پر نظر ثانی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممبئی حملہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔مصنف نے لکھا ہے کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی، ہدایات اور عملی جامہ پہنانے میں بھارت، امریکا اور اسرائیل شریک تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام دہشت گرد 15 روز سے نریمان ہاؤس میں ہی مقیم تھے۔ دہشت گردوں کے سہولت کار جو فون استعمال کررہے تھے وہ امریکہ کا نمبر ہے۔جرمن مصنف نے کہا ہے کہ تحقیقات سے پانچ چیزیں ثابت ہوئیں ہیں کہ بھارتی حکومت اور اداروں نے واقعے سے متعلق اصل حقائق چھپائے۔بھارتی عدالتیں بھی سچائی تلاش اور انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔ہیمنت کرکرے اور دیگر افسران کو قتل کرکے ہندو انتہاپسند حلقوں کو ایندھن فراہم کیا گیا۔ممبئی حملے سے نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے تاجروں، سیاستدانوں اور عسکری حلقوں نے فوائد سمیٹے۔ممبئی حملے سے پاکستانی حکومت یا پاک فوج کو کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔خیال رہے کہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے مشہور مصنف ایلیس ڈیوڈسن اس سے قبل عراق پر معاشی پابندیوں اور 11/9 پر بھی تحقیقاتی کتابیں لکھ چکے ہیں۔