مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
میں نہیں مان سکتا کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کر حکومت کرے:چیف جسٹس
اسلام آباد:الیکشن ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت، میں نہیں مان سکتا کہ کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کر حکومت کرے، کیا توہین عدالت کا مرتکب پارٹی صدر بن سکتا ہے؟ پارلیمنٹ کو بنیادی ڈھانچے سے متصادم قانون بنانے کا اختیار نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس۔سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ 2017ء کیس کی سماعت ہوئی جس میں 3 رکنی بینچ کے گرما گرم ریمارکس بھی سامنے آئے۔ چیف جسٹس بولے، اللہ نہ کرے کہ کوئی چور اچکا پارٹی صدر بن جائے، نہیں مان سکتا کہ کوئی ڈکیت پارٹی صدر بن کر حکومت کرے، ہمارے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ان کے وزیر اعظم وہی ہیں، نااہل شخص ارکان پارلیمنٹ سے وہ کرائے گا جو وہ خود نہیں کر سکتا۔جسٹس اعجاز الاحسن بولے، ایک مثال دے دیں کہ نااہل شخص نے پارٹی ٹکٹ تقسیم کئے ہوں؟ انتخابی اصلاحات ایکٹ کی آئین کے ساتھ وفاداری نہیں لگتی، اداروں پر حملہ کرنے پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔