مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سپینش شہریت کے حامل سائنسدانوں کی قدرتی آفات پر ریسرچ
مانچسٹر:دنیا کے مختلف ممالک کے علاقوں اور قوموں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ،سیلاب،زلزلہ،سونامی، ،آندھی و طوفان، بارش و دیگر کی صورت میں آفات آتی رہی ھیں اور تا قیامت آتی رہیں گی۔دنیا کے کئی سائنسدانوں نے ایسی قدرتی آفات کی ریسرچ پر ہزاروں کتابیں لکھی ہیں۔لیکن کوئی بھی کی گئی آج تک کی تحقیقات ایک دوسرے سے اتفاق رکھنے سے قاصر رہی ھیں۔صرف اور صرف ایک ہی کتاب دنیا میں موجود ہے جو رہتی دنیا تک رہے گی،جس میں دنیا میں آنے والی ہر آفت کا ذکر اور اسکے اسباب موجود ہیں۔وہ کتاب اللہ (قرآن پاک ) ہے۔ جس سے مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم اسکالرز،سائنسدان،دانشور،ڈاکٹرزبھی کتاب اللہ کے مطالعہ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ایسے ہی سپینش شہریت کے حامل سائنسدانوں کو سپین کی یونیورسٹی Salamanca میں (curious Resident) نے خونی بارش کا پانی بھیجا۔کہ یہ آسمانی بارش کا پانی ھے۔یہ خونی بارش سپین کے گاؤں (Encalda Zamora) 2014ء میں پہلی مرتبہ ہوئی۔اس سے پہلےاسی طرح کی خونی بارش ستمبر 2001ء کیرلا انڈیا میں ہوئی۔دوسری مرتبہ ایسی ہی بارش دوبارہ سپین کے نارتھ ویسٹ کے چھوٹے سے شہر Zamora میں ھوئی۔اس بارش سے کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔بارش 200 گرام سے زائد کے برفانی گولوں میں 30 منٹ سے زیادہ تک مسلسل ہوتی رہی۔بارش کے رکتے ہی گلیوں،ندی نالوں میں خونی پانی دو دنوں تک گردش کرتا رہا۔کئی عمارتوں کی چھتوں میں بڑے بڑے سوراخ،گاڑیوں کی سکرین وباڈیز تباہ و برباد ہو گیں۔کئی جانور اور انسان موقع پر ھلاک ھو گے۔ سائنسدانوں نے کئی مہینوں کی ریسرچ پرخونی بارش کے پانی کو ماننے سے انکار کرتے ھوئے کہا کہ یہ آسمانی بارش کا پانی نہیں ھو سکتا۔یہ تو کوئی کیمیکلز مکس شدہ پانی ھے۔جس پر (curious Resident) نے انٹرنیشنل یونیورسٹی الیکانتے کے ریسرچرز ڈیپارٹمنٹ انچارج کو وہی پانی کے نمونے بھجوائے تو وہاں کے سائنسدانوں نے اس بات کو یقینی بناتے ہوئے اپنی ریسرچ کی ناکامی پر حیرت کا اظہار کیا اور اس خونی بارش کےپانی کی ریسرچ حاصل کرنے پر قرآن پاک کی مدد حاصل کی۔سپین میں اس طرح کی آخری بارش2017 میں ھوئی ھے۔ جو 200 گرام سے زیادہ سفید رنگ کے برفانی گولوں کی شکل میں تھی ۔جس سے کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر