مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بابری مسجد شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90مساجد بنا دیں
لاہور: بابری مسجد کو شہید کرنے والے سکھ نے قبول اسلام کے بعد 90 مساجد بنا دیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کے لیے پہلی کدال چلانے والے بلوائی بلبیر سنگھ نے واقعے کے صرف 6ماہ بعد ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔وہ 90سے زائد مساجد تعمیر کرا چکا ہے ، اس کے علاوہ دیگر 27بلوائی بھی مسلمان ہوچکے ہیں۔بلبیر سنگھ سے عامر بننے کے بعد اس فعل کا کفارہ ادا کرنے کیلئے انھوں نے سو مساجد بنانے کا اعلان کیا، جن میں سے اب تک 90سے زائد مساجد تعمیر کی جاچکی ہیں۔یاد رہے کہ روہتک یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ، تاریخ، سیاسیات اور انگریزی میں ایم اے بلبیر سنگھ بابری مسجد کی شہادت کے بعد اپنے ضمیر کے قیدی بن گئے تھے۔ انہوں نے دل میں ایمان کی شمع روشن ہونے کے بعد اپنے اس گناہ سے معافی مانگ لی۔انڈین میڈیا کی رپورٹس محمد عامر کا تعلق ہریانہ کے پانی پت کے ایک گاؤں سے ہے۔ ان کے خاندان نے ہجرت کر کے شہر کا رُخ کیا۔ حال میں ممبئی سے قریب مالیگاؤں کے دوران سفر انہوں نے بتایا کہ بچپن سے وہ آر ایس ایس کی مقامی شاخ سے وابستہ رہے اور پھر شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ بال ٹھاکرے نے انہیں متعارف کرایا تھا۔محمد عامر کا کہنا ہے کہ بابری مسجد پر ہتھوڑا چلانے کے ساتھ ہی ان کی بے چینی بڑھ گئی لیکن مسلمانوں کے بارے میں دل ودماغ میں بھری نفرت نے مسجد پر مزید وار کرنے پر اکسایا اور اس درمیان طبیعت مزید بگڑی اور دوستوں نے مسجد کی شہادت کے بعد پانی پت منتقل کیا، جہاں وہ دو اینٹ بھی ساتھ لے گئے جو کہ ابھی شیوسینا کے مقامی دفترمیں رکھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ میرے والد کو میری اس حرکت کا پتہ چلا تو انہوں نے گھر کے دروازے مجھ پر بند کر دیے اور کہا کہ ایک استاد کے بیٹے نے ایک غلط کام میں حصہ لیا۔ محمد عامر نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد میرا ہر طرف استقبال کیا جاتا لیکن میرے دل کو کسی طرح سے چین نہیں تھا۔ میں نے دماغی حالت بگڑنے کے ڈر سے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو اس نے مجھ پر واضح کر دیا کہ میری یہ بے چینی موت کا باعث بن سکتی ہے۔سابق کارسیوک نے دل دہلا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بابری مسجد کی شہادت میں شامل ان کا ایک ساتھی پاگل ہو گیا تھا۔ وہ اپنے گھر کی عورتوں کو دیکھ کر کپڑے پھاڑنے لگتا تھا۔ محمد عامر نے بتایا کہ جب تمام امیدیں دم توڑ گئیں تو میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کر کے خود کو اسلام میں داخل کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میرے ساتھیوں کو پتہ چلا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو 27 کارسیوکوں نے میرا ساتھ دیتے ہوئے خود کو مسلمان بنا لیا۔ محمد عامر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد 100 مساجد کو تعمیر کرنے کا عزم کیا تھا۔ جس میں سے وہ اب تک 90 مساجد تعمیر کرا چکے ہیں۔