مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اتنا سیاسی یتیم نہیں کہ جونیئر کو سر یا میڈم کہوں: نثار کا مریم کے ماتحت کام کرنے سے انکار
ٹیکسلا: چوہدری نثار نے کہا نوازشریف کو خط لکھا کہ پارٹی کے معاملات پارٹی کے اندر حل ہونے چاہئیں، اگر کسی کو شکایت ہے تو پارٹی میں معاملے کو لائے۔ انہوں نے کہا ضروری ہو گیا ہے کہ ڈان لیکس کے حوالے سے وضاحت کی جائے، ڈان لیکس پر سی ای سی نہ بلائی تو رپورٹ پبلک کر دونگا، پارٹی میں ان چیزوں کا مداوا ہونا چاہیے۔سابق وفاقی وزیرداخلہ و رہنما مسلم لیگ (ن) نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پارٹی کے اندر بات کرنے پر فوقیت دیتا ہوں، کبھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی، بہت سی چیزوں سے دلبرداشتہ ہو کر فیصلہ کیا کہ خود کو ایک سائیڈ پر رکھوں۔ انہوں نے کہا نواز شریف نے کئی بار کہا اداروں سے لڑائی نہیں چاہتے، شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف بھی یہ کہتے ہیں، میں نے کابینہ کی میٹنگ میں مشورے دیئے، نواز شریف اور مریم نواز پر کبھی تنقید نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ گیا کسی کو برا بھلا نہیں کہا، میں نے کہا تھا کہ مجھے سنے بغیر کمیشن کا فیصلہ غلط تھا۔چودھری نثار نے مزید کہا جس نے الیکشن نہ لڑا ہو وہ ٹیکنو کریٹ یا خوشامدی ہو سکتا ہے، پاکستان اور معاشرہ تنزلی کا شکار ہے، فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی طور پر متحرک ہو جاؤں۔ انہوں نے کہا گالم گلوچ روز مرہ کا وطیرہ بن گیا ہے، پارٹی کے اندر اور باہر خود کو متحرک رکھوں گا، رول آف لاء کا کہتے ہیں، خود پر بھی لاگو کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا منافقت نہیں کی، صاف کہا مریم نواز کے ماتحت کام نہیں کر سکتا، اتنا سیاسی یتیم نہیں کہ اپنے جونیئر کو سر یا میڈم کہوں، سینیئر کے ماتحت کام کرسکتا ہوں مگر جونیئر کے نہیں۔سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا پہلے مجھے بتایا جائے کہ ن لیگ کا بیانیہ کیا ہے، گھر میں اختلاف ہو تو سارا خاندان اکٹھا ہوتا ہے، پارٹی میں مشکلات ہیں اس کا حل مشاورت اور صرف مشاورت ہے۔