مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈرون حملے نہیں رک سکتے نگرانی مزیدسخت کردی جائے،امریکی سینٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا فیصلہ
واشنگٹن ... امریکی ڈرون حملوں سے جہاں متاثرہ ممالک خود چیخ چیخ کر انہیں بند کرنے کا واویلہ کر رہے ہیں وہیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی ان حملوں کو شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں، ان عوامل پر غور فکر کرنے کی بجائے امریکی سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے ڈرون حملوں کی نگرانی سخت کرنے کے ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کے بعد یہ بل ایوان نمائندگان سے باآسانی پاس ہو کر جلد ہی قانون بننے جارہا ہے جس کے تحت دنیا کو ان ڈرون حملوں سے ہلاکتوں کی تفصیل نہ مل سکے گی۔ واشنگٹن میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اس فیصلے کے مطابق بیرون ملک دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون طیاروں کے استعمال پر نگرانی سخت کردی جائے گی ان میں ناصرف دنیا بھر کے کسی بھی ملک کے لوگ بلکہ امریکی خود بھی شامل ہوں گے جن پر یہ سختی اترے گی۔ امریکی سینیٹ کی پندرہ رکنی انٹیلی جنس کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تمام تر معاملات کو ظاہر نہیں کیا گیا تاہم نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق دو کے مقابلے میں تیرہ ووٹوں سے پاس ہونے والے اس بل میں مخالفت صرف ری پبلکنز نے کی۔ واضع رہے کہ خاص طور پر ان دنوں اوباما انتظامیہ کو ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے مختلف ممالک، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جس کے زیر اثرگزشتہ ہفتے امریکی صدر نے ڈرون کے استعمال کو مزید شفاف بنانے کے لیے کہا تھا۔