مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈرون حملے نہیں رک سکتے نگرانی مزیدسخت کردی جائے،امریکی سینٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا فیصلہ
واشنگٹن ... امریکی ڈرون حملوں سے جہاں متاثرہ ممالک خود چیخ چیخ کر انہیں بند کرنے کا واویلہ کر رہے ہیں وہیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی ان حملوں کو شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں، ان عوامل پر غور فکر کرنے کی بجائے امریکی سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے ڈرون حملوں کی نگرانی سخت کرنے کے ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کے بعد یہ بل ایوان نمائندگان سے باآسانی پاس ہو کر جلد ہی قانون بننے جارہا ہے جس کے تحت دنیا کو ان ڈرون حملوں سے ہلاکتوں کی تفصیل نہ مل سکے گی۔ واشنگٹن میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اس فیصلے کے مطابق بیرون ملک دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون طیاروں کے استعمال پر نگرانی سخت کردی جائے گی ان میں ناصرف دنیا بھر کے کسی بھی ملک کے لوگ بلکہ امریکی خود بھی شامل ہوں گے جن پر یہ سختی اترے گی۔ امریکی سینیٹ کی پندرہ رکنی انٹیلی جنس کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تمام تر معاملات کو ظاہر نہیں کیا گیا تاہم نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق دو کے مقابلے میں تیرہ ووٹوں سے پاس ہونے والے اس بل میں مخالفت صرف ری پبلکنز نے کی۔ واضع رہے کہ خاص طور پر ان دنوں اوباما انتظامیہ کو ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے مختلف ممالک، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جس کے زیر اثرگزشتہ ہفتے امریکی صدر نے ڈرون کے استعمال کو مزید شفاف بنانے کے لیے کہا تھا۔