مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایٹمی معاملے میں ایران سے عالمی مزاکرات پرپیش رفت خوش آئند ہے : ولیم ہیگ
جنیوا ... برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے تبادلہ خیال کے ان لمحات کو جامد کر دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ولیم ہیگ نے کہا کہ مذاکرات میں آنے والی بہتری کی رفتار تیز ہوئی ہے اور چند ماہ پہلے کی نسبت ماحول بہت بہتر ہے۔ اب توجہ کا ایک حقیقی ارتکاز ہے اور ہمیں ہر وہ چیز کرنی چاہیے جس سے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ایک معاہدے پر پہنچا جا سکے۔ گوجنیوا میں ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات تعمیری رہے تاہم ابھی بھی مختلف آرا موجود ہیں اور مذاکرات ایک بار پھر دس روز بعد شروع کیے جائیں گے۔ اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت میں ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے عزم کو دہرایا تھا۔ بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے واضح ہے کہ ایران اپنے پسند کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔ اس حوالے سے ایران کا کہنا ہے کہ اس کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ یہ افزودگی توانائی کے حصول کے لیے کی جائے گی۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے امریکی اور یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کر دے گا جس کے بدلے میں پابندیوں پر سے کچھ عرصے کے لیے اسے سہولت مل سکے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ان مزاکرات میں ایران کی نمائندگی کی۔