مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ایٹمی معاملے میں ایران سے عالمی مزاکرات پرپیش رفت خوش آئند ہے : ولیم ہیگ
جنیوا ... برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے تبادلہ خیال کے ان لمحات کو جامد کر دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ولیم ہیگ نے کہا کہ مذاکرات میں آنے والی بہتری کی رفتار تیز ہوئی ہے اور چند ماہ پہلے کی نسبت ماحول بہت بہتر ہے۔ اب توجہ کا ایک حقیقی ارتکاز ہے اور ہمیں ہر وہ چیز کرنی چاہیے جس سے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ایک معاہدے پر پہنچا جا سکے۔ گوجنیوا میں ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات تعمیری رہے تاہم ابھی بھی مختلف آرا موجود ہیں اور مذاکرات ایک بار پھر دس روز بعد شروع کیے جائیں گے۔ اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت میں ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے عزم کو دہرایا تھا۔ بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے واضح ہے کہ ایران اپنے پسند کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اس پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔ اس حوالے سے ایران کا کہنا ہے کہ اس کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ یہ افزودگی توانائی کے حصول کے لیے کی جائے گی۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے امریکی اور یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کر دے گا جس کے بدلے میں پابندیوں پر سے کچھ عرصے کے لیے اسے سہولت مل سکے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ان مزاکرات میں ایران کی نمائندگی کی۔