مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
طالبان سے مذاکرات ہونے چاہیئں ، امید ہے کہ وہ مثبت جواب دیں گے: نواز شریف
کوئٹہ ... طالبان کی طرف سےسخت بیانات کے باوجود وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ طالبان سے مزاکرات ہونے چاہیئں تاکہ ملک میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہو۔ جمعہ کی شب بلوچستان کے آفت زدہ علاقے آواران کے دورے کے بعد کراچی پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو میں ان کا برملا کہنا تھا کہ طالبان سے مزاکرات دونوں فریقوں کے لئے بہتر ہیں۔ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چالیس ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش اور خواہش ہے کہ طالبان سے مذاکرات کیے جائیں اور وہ پرامید ہیں کہ طالبان اس کا مثبت جواب دیں گے۔ وزیر اعظم نے طالبان کے علاوہ افغانستان اور انڈیا سے بھی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور کہا ہم جنگجو لوگ نہیں ہیں اور جنگوں سے معاملات حل کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم طالبان کے نئے امیر مولوی فضل اللہ نے اپنے چنائو کے فوری بعد جو بیان جاری کیا اس کے مطابق وہ حکومت پاکستان کے خلاف اپنے مسلح حملے تیز تر کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف طور پر پاکستان حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کیا۔ تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ کے سربراہ عصمت اللہ شاہین نے ایک نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ان حملوں میں سکیورٹی فورسز، حکومتی اداروں، تنصیبات، سیاسی رہنماؤں اور پولیس کو نشانہ بنائیں گے۔ کالعدم تحریک طالبان کے مطابق ان کی عسکری کارروائیوں کا نشانہ خاص طور پر صوبہ پنجاب ہو گا۔ عصمت اللہ شاہین کے مطابق سویلین آبادی، بازاروں اور عوامی مقامات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ شام گورنر ہاؤس کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے مزید کہا کہ حکام کی تمام توجہ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والوں کو سزا دینے پر ہونی چاہیے تاکہ دوسروں کو ان کے انجام سے عبرت حاصل ہو۔ وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں جاری آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر یہ نہ سمجھیں کہ یہ آپریشن چند مہینوں میں ختم ہو جائے گا، اسے تب تک چلنا چاہیے جب تک ایک ایک مجرم کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کر دیا جاتا۔