مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
طالبان سے مذاکرات ہونے چاہیئں ، امید ہے کہ وہ مثبت جواب دیں گے: نواز شریف
کوئٹہ ... طالبان کی طرف سےسخت بیانات کے باوجود وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ طالبان سے مزاکرات ہونے چاہیئں تاکہ ملک میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہو۔ جمعہ کی شب بلوچستان کے آفت زدہ علاقے آواران کے دورے کے بعد کراچی پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو میں ان کا برملا کہنا تھا کہ طالبان سے مزاکرات دونوں فریقوں کے لئے بہتر ہیں۔ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چالیس ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش اور خواہش ہے کہ طالبان سے مذاکرات کیے جائیں اور وہ پرامید ہیں کہ طالبان اس کا مثبت جواب دیں گے۔ وزیر اعظم نے طالبان کے علاوہ افغانستان اور انڈیا سے بھی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور کہا ہم جنگجو لوگ نہیں ہیں اور جنگوں سے معاملات حل کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم طالبان کے نئے امیر مولوی فضل اللہ نے اپنے چنائو کے فوری بعد جو بیان جاری کیا اس کے مطابق وہ حکومت پاکستان کے خلاف اپنے مسلح حملے تیز تر کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف طور پر پاکستان حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کیا۔ تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ کے سربراہ عصمت اللہ شاہین نے ایک نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ان حملوں میں سکیورٹی فورسز، حکومتی اداروں، تنصیبات، سیاسی رہنماؤں اور پولیس کو نشانہ بنائیں گے۔ کالعدم تحریک طالبان کے مطابق ان کی عسکری کارروائیوں کا نشانہ خاص طور پر صوبہ پنجاب ہو گا۔ عصمت اللہ شاہین کے مطابق سویلین آبادی، بازاروں اور عوامی مقامات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ شام گورنر ہاؤس کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے مزید کہا کہ حکام کی تمام توجہ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والوں کو سزا دینے پر ہونی چاہیے تاکہ دوسروں کو ان کے انجام سے عبرت حاصل ہو۔ وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ کراچی میں جاری آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر یہ نہ سمجھیں کہ یہ آپریشن چند مہینوں میں ختم ہو جائے گا، اسے تب تک چلنا چاہیے جب تک ایک ایک مجرم کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کر دیا جاتا۔