مقبول خبریں
یورپین اسلامک سنٹر اولڈہم میں مسجد خضرا کی تزئین وآرائش کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
نوازشریف کی طرح باقی قیدیوں کوبھی علاج معالجے کیلئےرہا کیا جائے
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
اینڈریو سٹیفن سن سے راجہ نجابت حسین اور سردار عبدالرحمٰن کی ملاقات
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کامزید 40 چالیس ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ
سرینگر:بھارت مقبوضہ کشمیر میں مزید چالیس ہزار فوجی اہلکار تعینات کرے گا۔ یہ اہلکار آنے والے نام نہاد پنچایتی انتخابات کے دوران سکیورٹی کے نام پر تعینات کیے جائیں گے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق تعینات کی جانے والی مزید 300 کمپنیوں میں سے 85کمپنیاں سنٹرل ریزرو پولیس (سی آر پی ایف)، 75کمپنیاں بارڈر سکیورٹی فورس(بی ایس ایف)،85سنٹر ل انڈسٹریل سکیورٹی فورس(سی آئی ایس ایف)،40شاستریہ سیما بل (ایس ایس بی) جبکہ 45کمپنیاں انڈو تبتین بارڈر پولیس(آئی ٹی بی پی) سے لی جائیں گی۔دوسری جانب ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں گرنیڈکے ایک حملے میں بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف) کے دو اہلکار زخمی ہو گئے ۔مزید برآں ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی کا بڑا منصوبہ ناکام ہو گیا ،پانی میں زہر ملا کر لوگوں کو مارنے کی کوشش کی گئی ،نالہ مار کے پانی میں زہر سے ہزاروں ٹراؤٹ مچھلیاں ہلاک ہو گئیں ،معاملے کا پتہ چلنے پر سول انتظامیہ نے مار ،قاضی آباد اور دیگر علاقوں میں پانی کی سپلائی روک دی ، زہریلا مادہ بوگام فوجی کیمپ کے قریب پانی میں ملایا گیا ،علاقے میں خوف و ہراس،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔دوسری جانب ضلع کپواڑہ میں برفانی تودے کی زد میں آنے سے تین بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ۔مزید برآں مقبوضہ کشمیر کی زرعی یونیورسٹی کی17 لڑکیوں سمیت 24 رکنی طلبہ و طالبات کے گروپ کی بھوپال میں شناخت پریڈ اور بدتمیزی کے خلاف اپوزیشن ارکان نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں احتجاج کیا اور واک آئوٹ کیا ۔