مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
پاکستان پریس کلب یوکے کے سالانہ انتخابات اور تقریب حلف برداری
چیئرمین پی آئی ایچ آرچوہدری عبدالعزیز کوسوک ایوارڈ فار کمیونٹی سروسز سے نواز گیا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کامزید 40 چالیس ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ
سرینگر:بھارت مقبوضہ کشمیر میں مزید چالیس ہزار فوجی اہلکار تعینات کرے گا۔ یہ اہلکار آنے والے نام نہاد پنچایتی انتخابات کے دوران سکیورٹی کے نام پر تعینات کیے جائیں گے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق تعینات کی جانے والی مزید 300 کمپنیوں میں سے 85کمپنیاں سنٹرل ریزرو پولیس (سی آر پی ایف)، 75کمپنیاں بارڈر سکیورٹی فورس(بی ایس ایف)،85سنٹر ل انڈسٹریل سکیورٹی فورس(سی آئی ایس ایف)،40شاستریہ سیما بل (ایس ایس بی) جبکہ 45کمپنیاں انڈو تبتین بارڈر پولیس(آئی ٹی بی پی) سے لی جائیں گی۔دوسری جانب ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں گرنیڈکے ایک حملے میں بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف) کے دو اہلکار زخمی ہو گئے ۔مزید برآں ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی کا بڑا منصوبہ ناکام ہو گیا ،پانی میں زہر ملا کر لوگوں کو مارنے کی کوشش کی گئی ،نالہ مار کے پانی میں زہر سے ہزاروں ٹراؤٹ مچھلیاں ہلاک ہو گئیں ،معاملے کا پتہ چلنے پر سول انتظامیہ نے مار ،قاضی آباد اور دیگر علاقوں میں پانی کی سپلائی روک دی ، زہریلا مادہ بوگام فوجی کیمپ کے قریب پانی میں ملایا گیا ،علاقے میں خوف و ہراس،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔دوسری جانب ضلع کپواڑہ میں برفانی تودے کی زد میں آنے سے تین بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ۔مزید برآں مقبوضہ کشمیر کی زرعی یونیورسٹی کی17 لڑکیوں سمیت 24 رکنی طلبہ و طالبات کے گروپ کی بھوپال میں شناخت پریڈ اور بدتمیزی کے خلاف اپوزیشن ارکان نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں احتجاج کیا اور واک آئوٹ کیا ۔