مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کا جوہری پروگرام آئی اے ای اے کےمعیار کے مطابق ہے، بی بی سی رپورٹ مسترد
لندن ... پاکستان ہائی کمیشن لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں برطانوی نشریاتی ادارے کی اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ سخت تردیدی بیان کا حوالہ دیکر کہا گیا کہ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب جب چاہے پاکستان سے یہ ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔ جبکہ یہ خبر بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیاکہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام انتہائی مضبوط اور ایکسپورٹ کنٹرول جامع ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیار اور عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیار کے مطابق ہے۔ واضع رہے کہ بی بی سی نیوز نائٹ میں پروگرام کے سفارتی اور دفاعی امور کے مدیر مارک اربن نے نیٹو کے ایک اعلیٰ اہلکار سے رواں برس کے آغاز میں اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس افسر نے ایسی خفیہ رپورٹیں دیکھی تھیں جن کے مطابق سعودی عرب کے لیے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جوہری ہتھیار ڈیلیوری کے لیے تیار ہیں۔ اسی پروگرام میں اسرائیلی فوج کے خفیہ محکمے کے سربراہ اموس يالدن کی سویڈن میں کی گئی پریس کانفرنس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران جوہری بم حاصل کر لیتا ہے تو سعودی ایک ماہ کا بھی انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے بم کے لیے پہلے ہی رقم ادا کر دی ہے۔ وہ پاکستان جائیں گے اور جو چاہتے ہیں، لے آئیں گے۔ تاہم اسی پروگرام میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے امور پر امریکی صدر براک اوباما کے سابق مشیرگیری سیمور نے اس خیال کو رد کر دیا تھا۔ پاکستانی حکام نے بھی حالیہ پروگرام میں پیش کردہ امور کو حقائق کے منافی قرار دیا اور میڈیا کی توجہ حالیہ پاک امریکہ سربراہ ملاقات کی طرف مبذول کرائی جس میں دونوں ممالک کے سربراہان نے ایٹمی سیکورٹی کے معاملات پر ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔