مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کا جوہری پروگرام آئی اے ای اے کےمعیار کے مطابق ہے، بی بی سی رپورٹ مسترد
لندن ... پاکستان ہائی کمیشن لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں برطانوی نشریاتی ادارے کی اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ سخت تردیدی بیان کا حوالہ دیکر کہا گیا کہ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب جب چاہے پاکستان سے یہ ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔ جبکہ یہ خبر بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیاکہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام انتہائی مضبوط اور ایکسپورٹ کنٹرول جامع ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیار اور عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیار کے مطابق ہے۔ واضع رہے کہ بی بی سی نیوز نائٹ میں پروگرام کے سفارتی اور دفاعی امور کے مدیر مارک اربن نے نیٹو کے ایک اعلیٰ اہلکار سے رواں برس کے آغاز میں اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس افسر نے ایسی خفیہ رپورٹیں دیکھی تھیں جن کے مطابق سعودی عرب کے لیے پاکستان میں تیار کیے جانے والے جوہری ہتھیار ڈیلیوری کے لیے تیار ہیں۔ اسی پروگرام میں اسرائیلی فوج کے خفیہ محکمے کے سربراہ اموس يالدن کی سویڈن میں کی گئی پریس کانفرنس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران جوہری بم حاصل کر لیتا ہے تو سعودی ایک ماہ کا بھی انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے بم کے لیے پہلے ہی رقم ادا کر دی ہے۔ وہ پاکستان جائیں گے اور جو چاہتے ہیں، لے آئیں گے۔ تاہم اسی پروگرام میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے امور پر امریکی صدر براک اوباما کے سابق مشیرگیری سیمور نے اس خیال کو رد کر دیا تھا۔ پاکستانی حکام نے بھی حالیہ پروگرام میں پیش کردہ امور کو حقائق کے منافی قرار دیا اور میڈیا کی توجہ حالیہ پاک امریکہ سربراہ ملاقات کی طرف مبذول کرائی جس میں دونوں ممالک کے سربراہان نے ایٹمی سیکورٹی کے معاملات پر ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔