مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امريکا نے 11 ملکوں کے مہاجرين کے داخلے پر عائد پابندی ختم کر دی
واشنگٹن: امريکا کی جانب سے اعلان کيا گيا ہے کہ گيارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں کی امريکا داخلے پر پابندی ختم کی جا رہی ہے تاہم امريکا داخلے پر ان ملکوں کے شہريوں کی نگرانی پہلے کے مقابلے ميں اور بھی زيادہ سخت کر دی جائے گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جن ممالک کے ممالک سے پابندی ہٹائی گئی ہے ان کے نام بيان نہيں کيے گئے ليکن عام خيال يہی ہے کہ ان ميں مسلم اکثريتی آبادی والے ممالک اور شمالی کوريا شامل ہيں۔امريکی ہوم لينڈ سیکيورٹی کی سيکرٹری کرسٹن نيلسن نے کہا کہ يہ انتہائی لازمی ہے کہ ان کے محکمے کو يہ معلوم ہو کہ ملک ميں کون داخل ہو رہا ہے۔ اضافی سیکيورٹی اقدامات غلط لوگوں کو ہمارے مہاجرين سے متعلق پروگرام کا فائدہ اٹھانے سے روک پائيں گے اور اس بات کو يقينی بنائيں گے کہ ہم اپنی سرزمين کی حفاظت کی خاطرس ممکنہ خطرات کا جائزہ لیں سکیں۔یاد رہے کہ واشنگٹن انتظاميہ نے گزشتہ سال اکتوبر ميں 11 ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی امريکا داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ سرکاری طور پر متاثرہ ممالک کا نام عام نہیں کیا گيا تھا تاہم سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گا ہے کہ ان ميں مصر، ايران، عراق، ليبيا، مالی، شمالی کوريا، صوماليہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور يمن شامل ہيں۔