مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
امريکا نے 11 ملکوں کے مہاجرين کے داخلے پر عائد پابندی ختم کر دی
واشنگٹن: امريکا کی جانب سے اعلان کيا گيا ہے کہ گيارہ ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں کی امريکا داخلے پر پابندی ختم کی جا رہی ہے تاہم امريکا داخلے پر ان ملکوں کے شہريوں کی نگرانی پہلے کے مقابلے ميں اور بھی زيادہ سخت کر دی جائے گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جن ممالک کے ممالک سے پابندی ہٹائی گئی ہے ان کے نام بيان نہيں کيے گئے ليکن عام خيال يہی ہے کہ ان ميں مسلم اکثريتی آبادی والے ممالک اور شمالی کوريا شامل ہيں۔امريکی ہوم لينڈ سیکيورٹی کی سيکرٹری کرسٹن نيلسن نے کہا کہ يہ انتہائی لازمی ہے کہ ان کے محکمے کو يہ معلوم ہو کہ ملک ميں کون داخل ہو رہا ہے۔ اضافی سیکيورٹی اقدامات غلط لوگوں کو ہمارے مہاجرين سے متعلق پروگرام کا فائدہ اٹھانے سے روک پائيں گے اور اس بات کو يقينی بنائيں گے کہ ہم اپنی سرزمين کی حفاظت کی خاطرس ممکنہ خطرات کا جائزہ لیں سکیں۔یاد رہے کہ واشنگٹن انتظاميہ نے گزشتہ سال اکتوبر ميں 11 ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی امريکا داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ سرکاری طور پر متاثرہ ممالک کا نام عام نہیں کیا گيا تھا تاہم سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گا ہے کہ ان ميں مصر، ايران، عراق، ليبيا، مالی، شمالی کوريا، صوماليہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور يمن شامل ہيں۔