مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
خود کو دھول میں چھپانے کی کوشش
پاکستان میں جمہوری حکمرانوں سے استعفوں کا مطالبہ ہر دور میں ہوتا آیا ہے اور وجہ بھی ایک ہی رہی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہویؑ تھی، مینڈیٹ جعلی ہے لہٰذا استعفی دیا جاےؑ۔ استعفے کا مطالبہ حکومت کے خلاف سازش کہلایا، اکثر منتخب حکومت کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ر کہا جاتا رہا ہے کہ اسے اقتدار میں لانے والے خفیہ ہاتھ تھے۔ اور استعفی مانگنے والوں کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ انکی ڈور خفیہ ہاتھوں میں ہے۔ فرض کرو وہ خفیہ ہاتھ ہی دھاندلی سے حکومت لاتے ہیں اور وہی اپنی لایؑ ہویؑ حکومت کے خلاف حزبِ اختلاف والوں کو چابی دے کر حکومت سے استعفے کا مطالبہ کرواتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان خفیہ ہاتھ والوں کو ایسا کرنے سے کے نفلوں کا ثواب ملتا ہوگا؟ ہر درجے کا روشن خیال دانشور، داییں اور باییں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کارکنان و قایدین کو یہی کہتے پایا جاتا ہے کہ خفیہ والے جمہوری نظام کو نہیں چلنے دیتے ۔ اب جب خفیہ والے سماجی رابطے کی ویب ساییٹس اور قومی ذرایع ابلاغ پر آکر بدنامی میں لتھڑے اپنے ماضی کو بار بار یہ کہہ کر دھو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں اور یہ کہ وہ ایسے کسی اقدام کا ارادہ نہیں رکھتے جس سے جمہوریت کی ج بھی مجروح ہو تو انکے بارے میں اس طرح کے بیانات سے کیا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہوگی، خصوصاً جب داییں اور باییں بازو کے نظریات رکھنے والے دانشور، تجزیہ کار اور سیاستدان بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خفیہ والے ایسا کچھ نہیں کریں گے کیونکہ اب حالات ویسے نہیں ہیں جیسے اس وقت تھے جب انہوں نے ویسا کچھ کیا تھا۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ اب ان کیلیےؑ سیاستدان قابلِ احترام ہوگیےؑ ہیں، بلکہ حالات سے مراد بین الاقوامی حالات ہیں اور پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کی بدلی ہویؑ صورتِ حال ہے۔ سیاسی جماعتوں کے خفیہ والوں اور اپنی حریف سیاسی جماعتوں پرالزام لگانے والوں کے حوالے سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا الزام لگانے والوں کے طرزِ عمل سے انکی جمہوریت پسندی بھی کبھی نظر آیؑ ہے؟ کیا صرف منتخب ہوکے اسمبلیوں میں پہچنے کا نام جمہوریت ہے یا جسیے تیسے کرکے مدت پوری کرنا جمہوریت کہلاتا ہے؟ کیا ایک منتخب حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کرتی رہے اور حزبِ اختلاف کی ہر راےؑ اور ہر مشورے کو رد ہی کرے خواہ وہ کتنا ہی موزوں کیوں نہ ہو؟ اگر حکومت اپنی عددی برتری کے زعم میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیےؑ بغیر کویؑ قانون پاس کرلے یا ترقیاتی منصوبہ شروع کر لے،کیا اس میں میں روڑے اٹکانا اپوزیشن کا جمہوری حق ہوگا؟۔ مانا ان منصوبوں میں حکومتی نمائندگان نے ’’مال بنانے ‘‘ کا پروگرام بنایا ہوا ہے، تو کیا اپوزیشن جو تواناییاں اس منصوبے کی مزاحمت میں صرف کرتی ہے، وہ تواناییاں اس منصوبے کو شفاف بنانے پر نہیں لگا سکتی جو نسبتاً آسان کام ہے کیونکہ اس میں نہ دھرنے کی ضرورت نہ جلسے کی اور نہ ہی دھرنے میں کرسیاں بھرنے کی۔ اس سے ایوان اور عوام کا قیمتی وقت بھی بچ سکتا ہے۔ اگر حکومت ایوان کے اندر اپوزیشن کے واویلے کے باوجود ماوراےؑ آیین کچھ کر رہی ہو، تو ابوزیشن کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیےؑ۔ اس سے نہ صرف قیمتی وقت اور تواناییاں بچیں گی، بلکہ عوام کا پارلیمان اور عدلیہ پر اعتماد بڑھے گا۔ اگر عوام سے رابطہ کرنے کی حاجت اتنی ہی شدید ہو تو وہ اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے زریعے رفع کی جا سکتی ہے۔ جب سیاسی ، قانونی اور ابلاغی راستے دستیاب ہوں انکا استعمال کرنا چاہیےؑ کیونکہ انکے علاوہ کویؑ بھی راستہ صرف ٹکراوؑ ہی کہلاتا ہے اس پر چاہے حکومتی پارٹی چلے یا اپوزیشن اسکا مقصد صرف اس پر اڑایؑ جانیوالی دھول میں خود کو چھپانے کی کوشش ہوگا۔