مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکی سینٹ عارضی اخراجات کا بل پاس کرنے میں نا کام، 2013 کے بعد پہلا شٹ ڈاؤن
واشنگٹن: امریکی سینٹ میں عارضی اخراجات بل پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد حکومت نے شٹ ڈاؤن کا باضابطہ اعلان کر دیا، شٹ ڈاؤن سے امریکی حکومت کے بیشتر کام معطل ہوجائیں گے۔کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتے رہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کا رویہ شٹ ڈاؤن کی وجہ قراردیا ہے۔ حکومت کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کئی وفاقی ایجنسیاں متاثر ہونگی تا ہم نیشنل سکیورٹی، پوسٹ، ائیر ٹریفک کنٹرول، میڈیکل، ٹیکس اور الیکٹریسٹی پروڈکشن جیسے ضروری ادارے اپنا کام کرتے رہے ہیں۔شٹ ڈاؤن کے دوران امریکی وفاقی حکومت کے لاکھوں ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹیوں پر بھیجا جاسکتا ہے۔ انجینئرز، سائنسدان، اسپورٹس نیشنل پارک، میوزیم اور سیاحتی پروگرام متاثر ہونگے۔ امریکا میں حکومتی سرگرمیوں کے لیے کانگریس کے دونوں ایوان سینٹ اور ایوان نمائندگان بجٹ کی منظوری دیتے ہیں اور اگر اختلافات کی وجہ سے یہ بجٹ منظور نہ ہوسکے تو امریکی حکومت کو اپنی سرگرمیاں اور ادارے بند کرنا پڑتے ہیں، اسی بندش کو شٹ ڈاؤن کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی حکومت 2013 میں 16 روزتک شٹ ڈاؤن کا شکار رہی۔