مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
امریکی سینٹ عارضی اخراجات کا بل پاس کرنے میں نا کام، 2013 کے بعد پہلا شٹ ڈاؤن
واشنگٹن: امریکی سینٹ میں عارضی اخراجات بل پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہوسکا جس کے بعد حکومت نے شٹ ڈاؤن کا باضابطہ اعلان کر دیا، شٹ ڈاؤن سے امریکی حکومت کے بیشتر کام معطل ہوجائیں گے۔کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرتے رہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کا رویہ شٹ ڈاؤن کی وجہ قراردیا ہے۔ حکومت کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کئی وفاقی ایجنسیاں متاثر ہونگی تا ہم نیشنل سکیورٹی، پوسٹ، ائیر ٹریفک کنٹرول، میڈیکل، ٹیکس اور الیکٹریسٹی پروڈکشن جیسے ضروری ادارے اپنا کام کرتے رہے ہیں۔شٹ ڈاؤن کے دوران امریکی وفاقی حکومت کے لاکھوں ملازمین کو بغیر تنخواہ کے چھٹیوں پر بھیجا جاسکتا ہے۔ انجینئرز، سائنسدان، اسپورٹس نیشنل پارک، میوزیم اور سیاحتی پروگرام متاثر ہونگے۔ امریکا میں حکومتی سرگرمیوں کے لیے کانگریس کے دونوں ایوان سینٹ اور ایوان نمائندگان بجٹ کی منظوری دیتے ہیں اور اگر اختلافات کی وجہ سے یہ بجٹ منظور نہ ہوسکے تو امریکی حکومت کو اپنی سرگرمیاں اور ادارے بند کرنا پڑتے ہیں، اسی بندش کو شٹ ڈاؤن کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی حکومت 2013 میں 16 روزتک شٹ ڈاؤن کا شکار رہی۔