مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سعودی عرب منشیات سمگلنگ کیس، پاکستانی مجرم کا سر قلم، اس سال 71 لوگ سزا بھگت چکے
جدہ ... دنیا میں جہاں آئے روز سزائوں میں انسانی حقوق کی بنیاد پر کمی کی جارہی ہے وہیں صعدی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جو منشیات کی سمگلنگ، قتل، زنا اور ڈکیتی جیسی وارداتوں میں ملوث افراد کو موت کی سزا دیتا ہے لیکن اس کے باوجود جرائم سے پاک خطہ اسے بھی نہیں کہا جا سکتا۔ گذشتہ روز ہی منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں ایک پاکستانی باشندے کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق جعفر غلام علی کو اس وقت گرفتار کی گیا تھا، جب وہ منشیات کی ايک بڑی مقدار اسمگل کرنے کی کوشش میں تھا۔ واضع رہے کہ سعودی عرب میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد آباد ہے روزانہ لاکھوں لوگ ملک میں آتے اور جاتے ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے ممکن ہے ایسے میں کبھی کوئی شخص اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب بھی ہوجاتا ہو لیکن ایسی حرکت کرنے سے پہلے ہر شخص کو سو بار سوچ لینا چایئے کہ پکڑے جانے پر اسکا انجام کیا ہو گا کیونکہ عام طور پر مجرم کا سر کھلے میدان میں لوگوں کی موجودگی میں کیا جاتا ہے تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔ اس حوالے سے انٹرنیٹ ایسی ویڈیوز سے بھی بھرا پڑا ہے۔ بین الاقوامی نیوز ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں رواں برس اکہتر افراد کے سر قلم کیے جا چکے ہیں۔ سن دو ہزار بارہ میں عصمت دری، قتل، مرتد ہونے، مسلح ڈکیتی اور منشیات کے جرائم میں کم از کم پچھہتر افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔