مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں 11 سالہ مسلم طالبہ پر حملہ، پولیس نے تفتیش شروع کر دی
اوٹاوا: کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ایک 11 سالہ مسلمان لڑکی کے حجاب کو ایک شر پسند شخص نے قینچی سے کاٹ ڈالا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ٹورانٹو کے مصروف ترین علاقے میں پیش آیا۔ متاثرہ لڑکی اپنے بھائی کے ساتھ جا رہی تھی کہ اچانک تاک میں بیٹھے ایک شخص اس پر حملہ کر کے سکارف کھینچ ڈالا۔ لڑکی نے جب شور مچایا تو حملہ آور شخص اس وقت فرار ہو گیا، مگر کچھ دیر بعد اس نے پھر حملہ کر دیا اور قینچی سے اسکارف کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ رپورٹس کے مطابق حملے کا شکار لڑکی چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور سکول میں بھی اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھتی ہے۔متاثرہ لڑکی خولہ نعمان نے بتایا کہ جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ سکول جا رہی تھی تو اچانک قینچی لیے ایک شخص اس کی جانب بڑھا، اس نے دو مرتبہ میرے حجاب کو کاٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے میں بہت خوف زدہ ہو گئی، مجھے اس کی توقع نہیں تھی کہ لوگ اس طرح کی حرکت کریں گے۔پولیس کہنا ہے کہ حملہ آور ایشیائی تھا، جس کی عمر 20 سال کے قریب تھی۔ یہ واقعہ ٹورانٹو کے مشرقی علاقہ میں واقع پاؤلین جانسن سکول کے قریب پیش آیا۔ واقعہ کی تفصیلات حاصل کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس واقعہ سے انھیں بہت دکھ پہنچا، میں متاثرہ لڑکی، ان کے اہلخانہ اور مسلم برادری کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حملہ کینیڈا کی شناخت کے برعکس ہے، جو واقعہ پیش آیا، ہمارا چہرا بالکل ایسا نہیں ہے۔