مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں 11 سالہ مسلم طالبہ پر حملہ، پولیس نے تفتیش شروع کر دی
اوٹاوا: کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ایک 11 سالہ مسلمان لڑکی کے حجاب کو ایک شر پسند شخص نے قینچی سے کاٹ ڈالا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ٹورانٹو کے مصروف ترین علاقے میں پیش آیا۔ متاثرہ لڑکی اپنے بھائی کے ساتھ جا رہی تھی کہ اچانک تاک میں بیٹھے ایک شخص اس پر حملہ کر کے سکارف کھینچ ڈالا۔ لڑکی نے جب شور مچایا تو حملہ آور شخص اس وقت فرار ہو گیا، مگر کچھ دیر بعد اس نے پھر حملہ کر دیا اور قینچی سے اسکارف کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ رپورٹس کے مطابق حملے کا شکار لڑکی چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور سکول میں بھی اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھتی ہے۔متاثرہ لڑکی خولہ نعمان نے بتایا کہ جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ سکول جا رہی تھی تو اچانک قینچی لیے ایک شخص اس کی جانب بڑھا، اس نے دو مرتبہ میرے حجاب کو کاٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے میں بہت خوف زدہ ہو گئی، مجھے اس کی توقع نہیں تھی کہ لوگ اس طرح کی حرکت کریں گے۔پولیس کہنا ہے کہ حملہ آور ایشیائی تھا، جس کی عمر 20 سال کے قریب تھی۔ یہ واقعہ ٹورانٹو کے مشرقی علاقہ میں واقع پاؤلین جانسن سکول کے قریب پیش آیا۔ واقعہ کی تفصیلات حاصل کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس واقعہ سے انھیں بہت دکھ پہنچا، میں متاثرہ لڑکی، ان کے اہلخانہ اور مسلم برادری کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حملہ کینیڈا کی شناخت کے برعکس ہے، جو واقعہ پیش آیا، ہمارا چہرا بالکل ایسا نہیں ہے۔