مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں 11 سالہ مسلم طالبہ پر حملہ، پولیس نے تفتیش شروع کر دی
اوٹاوا: کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ایک 11 سالہ مسلمان لڑکی کے حجاب کو ایک شر پسند شخص نے قینچی سے کاٹ ڈالا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ٹورانٹو کے مصروف ترین علاقے میں پیش آیا۔ متاثرہ لڑکی اپنے بھائی کے ساتھ جا رہی تھی کہ اچانک تاک میں بیٹھے ایک شخص اس پر حملہ کر کے سکارف کھینچ ڈالا۔ لڑکی نے جب شور مچایا تو حملہ آور شخص اس وقت فرار ہو گیا، مگر کچھ دیر بعد اس نے پھر حملہ کر دیا اور قینچی سے اسکارف کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ رپورٹس کے مطابق حملے کا شکار لڑکی چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور سکول میں بھی اپنے سر کو ڈھانپ کر رکھتی ہے۔متاثرہ لڑکی خولہ نعمان نے بتایا کہ جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ سکول جا رہی تھی تو اچانک قینچی لیے ایک شخص اس کی جانب بڑھا، اس نے دو مرتبہ میرے حجاب کو کاٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے میں بہت خوف زدہ ہو گئی، مجھے اس کی توقع نہیں تھی کہ لوگ اس طرح کی حرکت کریں گے۔پولیس کہنا ہے کہ حملہ آور ایشیائی تھا، جس کی عمر 20 سال کے قریب تھی۔ یہ واقعہ ٹورانٹو کے مشرقی علاقہ میں واقع پاؤلین جانسن سکول کے قریب پیش آیا۔ واقعہ کی تفصیلات حاصل کر کے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس واقعہ سے انھیں بہت دکھ پہنچا، میں متاثرہ لڑکی، ان کے اہلخانہ اور مسلم برادری کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حملہ کینیڈا کی شناخت کے برعکس ہے، جو واقعہ پیش آیا، ہمارا چہرا بالکل ایسا نہیں ہے۔