مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
یروشلم بطور اسراییلی دارلحکومت اور مسلمانوں کا ردِعمل
حضور اکرم ﷺ کو دورانِ امامت ، قبلہ تبدیل کرنے کے حکم کے پیچھے کیا حکمت تھی یہ وہی جانے۔ ایک سرسری سی گوگلی تحقیق بتاتی ہے کہ یروشلم کی مسجدِ اقصی ( جسے مسلمان اپنا قبلہ ؑ اول بھی کہتے ہیں) دوسرے خلیفہ حضرت عمر نے بنوایٓ تھی، بعد میں بنو امیہ کے خلیفہ عبدالمالک نے اسکی توسیع پر کام شروع کروایا جسے مکمل اسکے بیٹے ولید نے کیا۔ سن سات سو چھیالیس میں ایک زلزلے کے نتیجے میں یہ مسجد شہید ہوگیٓ، جسے عباسی خلیفہ منصور نے سات سو چون میں پھر سے تعمیر کروایا، پھر ا سکے جانشین المہد نے اسکی نیےؑ سرے سے تعمیر کروایؑ۔ ۔ سن ایک ہزار تینتیس میں ایک زلزلے نے اس مسجد کو زمین بوس کردیا، جسے دو سال بعد فاطمی خلیفہ علی الزہر نے پھر تعمیر کروادیا اور وہ عمارت اب تک قایم ہے۔ مختلف مسلمان حکمرانوں کے ادوار میں اس مسجد کی توسیع ، آرایش و تزیین ہوتی رہی، جس میں گنبد، میناروں کی تعمیر اور اندرونی آرایش وغیرہ شامل تھیں۔ قدرتی آفات سے نجات پا چکنے کے بعد یہ مسجد جنگ و جدل کا شکار ہو گیؑ سن ایک ہزار ننانوے میں صلیبی جنگیں شروع ہوگییں اور یہ مسجد صلیبی حکمرانوں کے قبضے میں چلی گیؑ جنہوں نے اس مسجد کو بطور محل اور کلیسا استعمال کرنا شروع کر دیا۔ لیکن گیارہ سو ستاسی میں سلطان صلاح الدین ابوبی نے پھر سے اسے آزاد کروا لیا، جس پر ابوبیوں، مملوکوں اور عثمانیوں کے ادوار کے علاوہ سپریم مسلم کونسل اور شام نے بھی توسیعی و آرایشی کام جاری رکھےجب یہ سمجد انکے زیرِانتظام تھی۔ اب جب وہ شہر جہاں یہ مسجد واقع ہے اسراییل کے قبضہ میں ہے لیکن مسجد کا انتظام شام اور فلسطین کے مشترکہ وقف کے پاس ہے۔ یہ مقدس مسجد تقریباً ایک صدی تک غیر مسلموں کے قبضہ میں رہ چکنے کے بعد سن گیارہ سو ستاسی سے مسلسل مسلمانوں کے زیرِ انتظام ہے۔ اگرچہ وہ شہر جہاں یہ مسجد واقع ہے، وہ پہلے ہی اسراییل کے قبضہ میں تھا۔ اب اسرایہل کو ہم تسلیم کریں یا نہ کریں، لیکن کیا اس حقیقت کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ اسراییل ایک طاقت ہے جو منظم ہے، مالی طور پر مستحکم ہے، اور اس نے عالمی طاقت امریکہ کو اپنی مٹھی میں کیا ہوا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسراییل اپنی تمام تر طاقت اور سینہ زوریوں کے باوجود اس مسجد پر مسلمانوں کے حق سے انکار نہیں کر رہا تبھی تو اسکا انتظام مشترکہ طور پر فلسطین اور شام کے اوقاف کے پاس چھوڑا ہوا ہے۔ اب جب دنیا ایک گلوبل ولج بن چکی ہے اور کویؑ بھی قوم مذہبوں میں بٹنے کی متحمل نہیں ہوسکتی، تو کیا اسراییل جس کی آبادی کا سترہ فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے، مسلمان دشمن کہلوانا چاہے گا؟ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی جذبات ابھار کے سیاسی مقاصد پورے کیےؑ جانا سیاست کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔ مسلمان چونکہ زیادہ جذباتی واقع ہوےؑ ہیں انکو بعض طاقتیں پہلے چھیڑتی رہتی ہیں۔ کبھی توہینِ رسول ِ خدا کے ذریعے تو کبھی قران مجید کی بے حرمتی کے ذریعے۔ بدقسمتی سے ان گستاخانہ حرکتوں پر ہمارا احتجاج انتہایؑ غیر موزوں رہا ہے۔ ہم اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچا کر اپنے غصہ کو ٹھنڈا کرتے رہے ہیں۔ اب یروشلم کو اسراییلی دارلخلافہ تسلیم کرکے بظاہر مسلمانوں کو بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فلسطینی اور دیگر مشرقِ وسطی کے مسلمان بھڑکیں گے اور ان پر دہشتگرد ہونے کے الزام نیےؑ سرے سے لگیں گے۔ خدشہ ہے کہ کہیں فلسطینی مسلمان جو اسراییلی جارہیت کی وجہ سے مظلوم مانے جاتے ہیں، اور بیشتر مغربی ممالک کی ہمدردیاں بھی حاصل کر چکے ہیں، اس مسلے کی وجہ سے انکی مظلومیت کو دہشتگردی میں تبدیل نہ کر دیا جاےؑ۔ اس مسجد والے شہر پر یہودی ریاست اسراییل کا قبضہ اور اسے اپنا دارلحکومت بنانے کا عمل سیاسی ہے، اس سے مسجد کے تقدس پر فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ اب صلیبی جنگوں والے زمانے کی بات نہیں جب اس مسجد کو کلیسا میں تبدیل کیا گیا تھا بلکہ مسجد مسلسل مسلمانوں ہی کے زیرِ انتظام ہے۔ اس نازک مسلے کے حل کیلیےؑ ہر پہلو بشمول اس حقیقت کے کہ مسجدِ اقصی مسلمانوں کا قبلہؑ اول نہیں تھی۔ بلکہ قبلہؑ اول خانہؑ کعبہ ہی رہا ہے۔ بیچ میں تھوڑے عرصہ کیلیےؑ مسجدِ اقصی ہمارا قبلہ رہی ہے اور اللہ نے دورانِ نماز حضور ﷺ کو مسجد اقصی سے واپس خانہؑ کعبہ کی طرف رخ موڑنے کا حکم دیا اور حضور نے ویسا ہی کیا ۔ وہ مسجد جس میں یہ حکم جاری ہوا، اس میں دو نفل نماز ادا کرنے کا اجر بھی عمرہ ادا کرنے کے برابر ہے۔ مسجدِ اقصی کے مقدس ہونے میں کویؑ شک نہیں ہے لیکن یہ مسلہ محض مذہبی نہیں ہے۔ اسکے حل کیلیےؑ تاریخی حقایق بھی درست کرنا ہونگے۔ اسے قبلہؑ اول کہہ کر اسکے ساتھ مسلمانوں کے جذبات کو مصنوعی طریقے سے نتھی کیا جاتا رہا ہے جس سے مسلمانوں کے حقایق پر مبنی دعوے بھی مشکوک ہو سکتے ہیں۔