مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کلبھوشن یادیو کو را کے بڑے بڑے افسروں نے بھرتی کیا: بھارتی اخبار کا انکشاف
نئی دہلی:بھارتی اخبار نے اپنی ہی خفیہ ایجنسی را کے کرتوت بے نقاب کر دیے۔ جاسوس کلبھوشن سے متعلق سچ بولنے پر بھارتی سرکار کو مرچیں لگ گئیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے جسے بھارتی خفیہ ایجنسی کےا علیٰ افسروں نے بھرتی کیا۔ بھارتی اخبار نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان کا دعویٰ حقیقت قرار دے دیا۔ اخبار نے لکھا کہ کلبھوشن یادیو کو بھارتی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ سطحی افسروں نے ہائر کیا جس کا کام پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرانا تھا۔بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن یادیو کے پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد را کے دو اہلکاروں نے ممبئی میں اس کے والدین کو دھمکیاں بھی دیں کہ وہ اپنے بیٹے کے کیس کے بارے میں کسی سے بھی گفتگو نہ کریں، کلبھوشن یادیو کا پاسپورٹ بھی اس کے بھارتی شہری ہونے کا ثبوت ہے۔ حسین مبارک پاٹیل کے نام پر ایک پاسپورٹ اور دوسرا بھارتی شہر تھینی کا پاسپورٹ جس کی مدت 2024 تک تھی۔بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن کو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرانے کے لئے بھرتی کیا گیا جو اپنے اناڑی کاموں کی وجہ سے پکڑا گیا، کلبھوشن "را" کے ایجنٹ اور جاسوس کے طور پرکام کرتا رہا، کلبھوشن کو بطور جاسوس تعینات کرنے پر "را" کے 2 اعلیٰ افسران کو تحفظات تھے۔بھارتی اخبار کے مطابق دونوں افسران کلبھوشن کے بطور جاسوس پاکستان کام کرنے کے مخالف تھے، ایران، پاکستان ڈیسک پر کام کرنیوالے بھارتی افسران تعیناتی میں معاون ثابت ہوئے۔ اخبار نے بھانڈا پھوڑا تو خبر شائع ہوتے ہی ہٹا دی گئی۔