مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دنیا دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے اقدامات کو سراہتی ہے: چین
بیجنگ: چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے اقدامات کو سراہانا چاہیئے۔ ترجمان جینگ شوانگ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ اس سلسلے میں بڑی قربانیاں بھی دی ہیں۔دوست ملک کا کہنا ہے چین اور پاکستان مخلص دوست ہیں اور دونوں ملک ایک دوسرے کو تعاون اور مدد فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ترجمان سے جب سوال کیا گیا کہ ٹرمپ کے بیان سے چین کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششوں پر کوئی اثر پڑے گا تو چینی وزارت خارجہ نے بتایا کہ چین، پاکستان اور افغانستان نہ صرف جغرافیائی بلکہ مشترکہ مفادات کے لحاظ سے بھی آپس میں جڑے ہیں اور قدرتی طور پر ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔خیال رہے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک دھمکی آمیز بیان میں کہا کہ 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد دے کر ہم نے بے وقوفی کی تھی لیکن اب پاکستان کو کوئی امداد نہیں دی جائے گی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ہم پاکستان کو بھاری امداد دیتے رہے لیکن دوسری جانب سے ہمیں جھوٹ اور فریب کے سواء کچھ نہیں دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہمارے رہنماؤں کو بے وقوف سمجھتے رہے۔ وہ ان دہشت گردوں پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم افغانستان میں تعاقب کر رہے ہیں، تاہم اب ایسا نہیں چلے گا۔