مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جاسوسی سےمتعلق الزامات کا تسلی بخش جواب دینے، اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کیلئے تیار ہیں: جان کیری
وارسا ... پولینڈ کے سرکاری دورے پر گئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک جاسوسی سے متعلق تمام الزامات کا تسلی بخش جواب دے گا۔ اوباما انتظامیہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی این ایس اےکی جانب سے یورپی ممالک کی جاسوسی کیے جانے سے متعلق حالیہ انکشافات پر اتحادی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ پولش وزیرِاعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک جاسوسی سے متعلق اتحادی ممالک کے خدشات دور کرنے کے لیے متعلقہ ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کی کامیابی کی صورت میں فریقین کے درمیان بداعتمادی دور ہوگی اور انٹیلی جنس کے میدان میں تعاون بڑھے گا۔ اپنے دورہ پولینڈ کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ پولش رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت میں شام کا بحران اور امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک کی جاسوسی کے حالیہ انکشافات کا معاملہ سرِ فہرست رہا ہے۔ پولش وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، بنیادی قواعد اور تسلیم شدہ طریقہ کار کی بھی پاسداری کی جائے تاکہ عام شہری خود کو محفوظ تصور کریں اور بین الاقوامی اتحاد خطرے سے دوچار نہ ہوں۔ جان کیری نے اس موقع پر وارسا شہر کی سیر بھی کی اور موسم کے ساتھ ساتھ روایئتی پولش کھانوں سے بھی لطف اندوز ہوئے۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ کیری پاکستان کے راستے ممکنہ نیٹو سپلائی روکے جانے کے بعد کی صورتحال اور اگلے سال افغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی کیلئے متبادل اور محفوظ روٹس کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں پورپ کی ان ممالک کے خصوصی دورے پر ہیں۔