مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ میں دہشتگردی کے قیدیوں کو طبی عملے کیطرف سے بھی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، نئی رپورٹ
لندن ... ایک نئی تحقیق میں اس امر کا انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ میں دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے قیدیوں سے صرف جیل کا عملہ ہی نہیں بلکہ انکی طبی امداد پر مامور عملہ بھی انہیں جسمانی اور ذہنی اذیت کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ بات دو سال تک جاری رہنے والے ایک ایسے مطالعے کے بعد تیار کردہ رپورٹ میں سامنے آئی جسے امریکی انسٹیٹیوٹ آف میڈیسن اور جارج سروش کی فنڈنگ سے چلنے والی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کی طرف سے مکمل کرایا گیا۔ اس رپورٹ کی تیاری میں دو درجن کے قریب ماہرین نے حصہ لیا۔ امریکی اہلکاروں کی جیلوں کے طبی عملے کے ساتھ مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف اس ملی بھگت کی مثالیں افغانستان اور گوانتانامو کی جیلوں کے علاوہ امریکی ایجنسی سی آئی اے کے خفیہ حراستی مراکز میں بھی دیکھنے میں آئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ عمل امریکا پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس رپورٹ کے شریک مصنف اور کولمبیا یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسر آف میڈیسن جیرالڈ تھامسن کہتے ہیں یہ بات واضح ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر امریکی فوج نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے معمول سے مختلف حلف لے کر انہیں فوج کا ایجنٹ بنا دیا۔ اس طرح ان کارکنوں کو فرائض کی ایسی انجام دہی کے لیے کہا گیا جو طبی اخلاقیات اور اصولوں کے منافی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل کے دوران پیشہ ور طبی کارکنوں نے ایسے طریقے ڈھونڈنے اور ان پر عملدرآمد میں حصہ لیا، جن کے تحت قیدیوں پر تشدد کرنے کے علاوہ، انہیں ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز برتاؤ کا سامنا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان ماہرین میں فوجی اہلکار، سماجی اخلاقیات، طبی شعبے، صحت عامہ اور قانونی امور کے ماہرین شامل تھے۔ ان ماہرین نے اب امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشتبہ دہشت گردوں کے لیے قائم امریکی جیلوں میں طبی طریقہ کار کی مکمل چھان بین کرائے۔ مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف امریکی اہلکاروں کی زیادتیوں اور ان پر تشدد میں طبی عملے کے کردار کے بارے میں اس رپورٹ کے ایک شریک مصنف لیونارڈ رُوبن سٹائن بھی ہیں۔ ان کا تعلق امریکا کی جان ہاپکنز یونیورسٹی سے ہے۔ رُوبن سٹائن کے مطابق ایسی کارروائیوں میں گوانتانامو کی امریکی جیل کے بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلانا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ایجنٹوں نے طبی کارکنوں کی ملی بھگت سے بہت سی دوسری جیلوں میں بھی قیدیوں کے خلاف تفتیش کے ایسے طریقے بھی اپنائے جن میں سب سے مشہور واٹر بورڈنگ ہے۔ واٹر بورڈنگ کے ذریعے کسی بھی مشتبہ فرد کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ پانی میں ڈوب رہا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع اور سی آئی اے کا ان طبی کارکنوں سے مطالبہ تھا کہ وہ ان قیدیوں سے اہم معلومات کے حصول میں حکام کی مدد کریں۔ اس طرح ان ڈاکٹروں اور نرسوں نے امریکی اہلکاروں کی مدد کرتے ہوئے زیر حراست مشتبہ افراد کو شدید نقصان پہنچانے میں حکام کی مدد کی۔