مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر کے مسئلے کا حل پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی پُل بن سکتا ہے: محبوبہ مفتی
سری نگر ... کشمیر کے مسئلے کا حل دونوں ملکوں کے درمیان دوستی پُل بن سکتا ہے۔ میں بھارت کی حکومت اور وہاں کی اپوزیشن اور پاکستان کے وزیراعظم سے کہنا چاہتی ہوں کہ کشمیر کے لوگ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ نہیں چاہتے بلکہ امن چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی مرکزی رہنما محبوبہ مفتی نے مقبوضہ کشمیر میں امن مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امن مارچ کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی کے نئے آغاز اور ایل او سی پر قیام امن کا مطالبہ کیا گیا۔ مارچ میں سینکڑوں نوجوان، مرد اور خواتین نے حصہ لیا۔ مظاہرین ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کی حمایت میں نعرے لگا ہے تھے۔ کشمیر کی بیشتر علیحدگی پسند تنظیمیں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے لیے بھارت کو ذمہ دار مانتی ہیں۔ حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی کہتے ہیں کہ 1948 میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں دونوں ملکوں نے جنگ بندی کرلی تو ایک سیز فائر لائن بنی جو بعد میں لائن آف کنٹرول کہلائی۔ اقوام متحدہ نے اس عبوری سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج کو جنگ سے باز رکھنے کے لیے مبصرین تو تعینات کیے لیکن مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کوئی کارروائی نہِیں کی۔ اگر بھارت خود حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرکے مسئلۂ کشمیر کے حل میں پہل کرتا تو جنگ کے بادل نہ منڈلاتے۔ اس سب سے کے لیے بھارت ذمہ دار ہے۔