مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جاسوسی الزام کے سلسلے میں جرمن وزارت خارجہ کی برطانوی سفیر سے پوچھ گچھ
برلن ...جرمن حکومت نے اپنی سربراہ مملکت کی جاسوسی کرنے پر صرف امریکہ سے ہی احتجاج نہیں کیا بلکہ برطانیہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ جرمن حکومت نے برلن میں تعینات برطانوی سفیر سائمن مکڈونلڈ کو طلب کرکے یہ احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ ایسا امریکی سی آئی اے کے جاسوس اور وکی لیکس کے بانی سنوڈن کی اس خصوصی پیشکش کے بعد ہوا جس میں اس نے جرمنی کو پیشکش کی کہ وہ انکی پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہے۔ گزشتہ ہفتے ماسکو میں جرمن پارلیمان کے بزرگ رکن ہنس کرسٹیان شٹروئبلے نے سنوڈن کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں سنوڈن نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے نام جو خط دیا، اُس میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ وہ اصولی طور پر این ایس اے کے جاسوسی اسکینڈل کے سلسلے میں جرمنی میں ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بیان دینے کے لیے تیار ہیں۔ برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کا کہنا ہے کہ برلن میں قائم برطانوی سفارت خانے کو شاید ٹاپ سیکرٹ رابطہ آفس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی کی قومی سلامتی ایجنسی (این ایس اے) کے افشا کردہ دستاویزات کے مطابق برطانوی سفارت خانے کی چھت پر ہائی ٹیک سازو سامان کی مدد سے جاسوسی کی جا سکتی تھی۔ دوسری جانب برلن کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی بین الاقوامی قانون کے خلاف ورزی ہو گی۔ جرمنی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیرِخارجہ گوئڈو ویسٹرویلے نے برطانوی سفیر سائمن میکڈانلڈ سے کہا ہے ہے کہ وہ ان دعوؤں کا جواب دیں۔ ترجمان کا کہنا ہے یورپی شعبے کے سربراہ سے پوچھا گیا ہے کہ وہ برطانوی میڈیا میں چھپنے والی ان اطلاعات جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ برطانوی سفارتی مشن کے احاطے سے مواصلات کے نظام میں ہونے والے خلل بین الاقوامی اصول کے خلاف ہے، کا جواب دیں۔ خیال رہے کہ برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کی یہ رپورٹ این ایس اے کی افشا کردہ ان دستاویزات پر مشتمل ہے جو امریکہ کے خفیہ راز افشاء کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن سامنے لائے تھے۔