مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عمران، نواز، ترین کیسز میں پھنس گیا تھا، ریفارمز نہ کرنے پر شرمندگی ہے:چیف جسٹس
لاہور: صوبائی دارالحکومت میں تقریب سے خطب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹسثاقب نثار نے کہا کہ بیماریاں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک جسم کی اور دوسری کرپشن، جھوٹ اور دغابازی کی۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جج صاحبان کو اللہ نے مسیحا بنا کر بھیجا ہے، اس کام کو اپنی آمدن کا ذریعہ مت سمجھیں، یہ نہ سمجھیں کہ اتنے وقت کام کر کے گھر چلے جانا ہے، دوسروں کے دکھ اور تکلیف کو سمجھنا چاہئے، کسی عزیز کے مرنے کے غم پر چہلم کے بعد صبر آ جاتا ہے لیکن اگر کسی مالک مکان کو 13 سال مکان کو خالی کرانے میں لگ جائیں تو کون ذمہ دار ہے؟ قانونی نظام میں ریفارمز نہیں کریں گے تو ہر شخص نقصان اٹھائے گا، جس بچے کا باپ مر گیا ہو اسے کون انصاف دے گا؟ یہاں سیکسشن سرٹفیکیٹ لینے میں 7 ماہ لگ جاتے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہمیں معاشرے سے کرپشن کی لعنت کو ختم کرنا ہے، جعلی دستخطوں کے ذریعے جائیدادوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے، جعلساز اتنی مہارت سے دستخط کرتے ہیں کہ اصل اور نقل کی کوئی پہچان نہیں، خدا کیلئے ججز اپنے پیشے کو تنخواہ کا ذریعہ نہ بنائیں، عدالتوں سے مایوس لوٹنے والوں کا صدمہ ان کے سواء کوئی نہیں جانتا، عدالتوں میں سالہا سال سے مقدمات التواء کا شکار ہیں، گیارہ سال ایک بیوہ کو پنشن نہیں ملی کیا یہ ہے انصاف؟ اس کوتاہی کا کون ذمہ دار ہے؟چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید کہا کہ یہ مقننہ کی ڈیوٹی ہے کہ وہ قانون بنائے، عدالتیں مقننہ نہیں ہیں، ہمارا کام صرف قانون میں سقم کی نشاندہی کرنا ہے مگر مقننہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی، جس کی کئی وجوہات ہیں، کوئی سیاسی آدمی نہیں ہوں، اب ضروری ہو گیا ہے کہ ان لکوناز کو حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جج صاحبان اپنے فرائض عبادت سمجھ کر ادا کریں، ہماری سوسائٹی کی بیماری کرپشن اور جھوٹ ہیں، معاملات ٹھیک کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے، مقدمہ سازی میں تاخیر پر بہت دکھی ہوتا ہوں لیکن ہم صرف قانون کے سقم کی نشاندہی کر سکتے ہیں، ہم نے اپنے قانون کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر نہیں کیا، معاشرے سے کرپشن کی لعنت کو ختم کرنا ہے، اصلاحات نہیں کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اگر مقننہ اپنا کام نہیں کر سکتی تو ایک ٹیم بنائی جائے جو ریفارمز کرے، ہمیں اپنی سوسائٹی کو آگاہی دینا ہو گی، لاء اینڈ جسٹس سسٹم ان لوگوں کو دیا جائے جو اس کام کو فل ٹائم دے سکیں، لاء اینڈ جسٹس سسٹم کو آزاد کیا جائے، میں اس کیلئے اپنے اختیارات سے دستبردار ہوتا ہوں۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ اللہ نہ کرے کہ اے ڈی آر سسٹم (تنازعات کے حل کا متبادل انتظام) ختم ہو، اس میں بہتری لانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں تو عمران خان، نواز شریف اور جہانگیر ترین کے کیسز میں پھنس گیا تھا، پائیدار ریفارمز نہ کرنے پر شرمندگی محسوس کرتا ہوں، آج سے اپنا وقت سسٹم کو بہتر کرنے پر لگانا ہے، اے ڈی آر سستا اور سب سے بہتر نظام ہے، ہاتھ پھیلا کر کہہ رہا ہوں کہ نظام میں اصلاحات کی جائیں، سسٹم بوسیدہ ہو چکا ہے، اصلاحات کی ضرورت ہے۔