مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
میانمار میں صرف ایک ماہ کے دوران 6 ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا گیا
نپیدو:میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کیخلاف رواں سال اگست سے شروع فوجی کریک ڈاؤن کے بعد صرف ایک ماہ میں کم از کم 6700 روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف ایک عالمی طبی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق محض 3 ماہ کے عرصے میں 6 لاکھ 20 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلا دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ ادھر اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اس آپریشن کو نسل کشی قرار دے چکی ہے۔ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز سے وابستہ میڈیکل ڈائریکٹر سِڈنی وونگ کا کہنا ہے کہ ہم ایسے افراد سے ملے جو اب بنگلا دیش میں قائم کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کیمپوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد موجود ہیں اور وہاں کا ماحول انتہائی غیر صحت بخش ہے۔ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ یہ روہنگیا مسلمانوں کیخلاف وسیع پیمانے پر پھیلنے والے تشدد کی واضح ترین نشانی ہے۔ محتاط ترین اندازوں کے مطابق کم از کم 6700 ہلاکتیں پرتشدد واقعات میں ہوئیں جن میں کم از کم پانچ سال سے کم عمر کے 730 بچے شامل ہیں۔ہلاک ہونے والے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 59 کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی، 15 فیصد کو جلایا گیا، 7 فیصد کو مار مار کے ہلاک کیا گیا جبکہ 2 فیصد بارودی سرنگ سے ہلاک ہوئے۔