مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
میانمار میں صرف ایک ماہ کے دوران 6 ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا گیا
نپیدو:میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کیخلاف رواں سال اگست سے شروع فوجی کریک ڈاؤن کے بعد صرف ایک ماہ میں کم از کم 6700 روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف ایک عالمی طبی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق محض 3 ماہ کے عرصے میں 6 لاکھ 20 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلا دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ ادھر اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اس آپریشن کو نسل کشی قرار دے چکی ہے۔ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز سے وابستہ میڈیکل ڈائریکٹر سِڈنی وونگ کا کہنا ہے کہ ہم ایسے افراد سے ملے جو اب بنگلا دیش میں قائم کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کیمپوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد موجود ہیں اور وہاں کا ماحول انتہائی غیر صحت بخش ہے۔ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ یہ روہنگیا مسلمانوں کیخلاف وسیع پیمانے پر پھیلنے والے تشدد کی واضح ترین نشانی ہے۔ محتاط ترین اندازوں کے مطابق کم از کم 6700 ہلاکتیں پرتشدد واقعات میں ہوئیں جن میں کم از کم پانچ سال سے کم عمر کے 730 بچے شامل ہیں۔ہلاک ہونے والے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 59 کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی، 15 فیصد کو جلایا گیا، 7 فیصد کو مار مار کے ہلاک کیا گیا جبکہ 2 فیصد بارودی سرنگ سے ہلاک ہوئے۔