مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پیر تک فاٹا کا کے پی میں انضمام نہ ہوا تو پھر سڑکوں پر آئیں گے: عمران کا اعلان
اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں فاٹا کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی بھایئوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، زیادہ تر پاکستانیوں کو قبائلی علاقوں کے بارے میں پتا ہی نہیں، نائن الیون شروع ہونے سے قبل قبائلی علاقے سب سے زیادہ پُرامن علاقے تھے، قبائلیوں کا انصاف کا نظام ٹھیک چل رہا تھا، 74ء کے بعد فاٹا میں پاکستان کا قانون لاگو ہوا لیکن پاکستان کا انصاف کا نظام فاٹا کے لوگوں کو انصاف نہیں دے سکا، قبائلیوں نے کشمیر میں اپنی جانیں قربان کیں، قبائلی رہنماؤں نے 1948ء میں خود پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا، قبائلی علاقوں کو پاکستانی فوج نے فتح نہیں کیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ انصاف کا نظام ٹھیک چلے تو جرائم نہیں ہوتے، قبائلیوں کے پاکستان کیساتھ پیار پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے، 73 فیصد قبائلی غربت کی لکیرسے نیچے ہیں، قبائلی علاقہ سارے پاکستان سے پیچھے رہ گیا ہے، نائن الیون کے بعد جو کچھ قبائلیوں سے ہوا اس کی مثال نہیں ملتی، جب فوج وزیرستان بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو اسمبلی میں کھڑے ہو کر اسے حماقت قرار دیا تھا لیکن امریکہ کے کہنے پر وزیرستان میں فوج بھیجی گئی، حکمران انگریز کی تاریخ پڑھ لیتے تو ایسی حماقت نہ کرتے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے کہنے پر آپریشن قبائلیوں کیساتھ بہت بڑا ظلم تھا، آپریشن کے دوران ڈرون حملے ہوئے، جن کے لوگ مرے، انہوں نے بدلے لئے، قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی، قبائلی علاقے ایک طرف فوج، دوسری طرف طالبان میں پھنس گئے تھے، قبائلیوں کو پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا اور کئی کو پولیس مقابلوں میں مار دیا گیا، اپنے ہی ملک میں ان کے شناختی کارڈ بلاک کر دیئے گئے اور وہ ٹھوکریں کھاتے رہے مگر کوئی ان کیلئے آواز بلند نہیں کر رہا تھا، ہم امریکہ کے لئے جنگ لڑ رہے تھے اور وہ ہمارے شہریوں پر ڈرون حملے کر رہا تھا۔چیئرمین پی ٹی آئی بولے بیرون ملک سے لوگوں نے آ کر قبائلیوں کے لئے آواز بلند کی، پاکستانی ڈرون حملوں کیخلاف آواز اٹھانے کی بجائے انہیں ٹھیک قرار دے رہے تھے، ہنگو میں ڈرون حملے کے بعد کے پی حکومت نے امریکیوں کی سپلائی لائن بند کر دی پھر کے پی میں ڈرون حملہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے فیصلے کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی سیاسی دکانیں چمکا رہے ہیں، قبائلی علاقوں کا پرانا نظام ختم ہو چکا ہے، اس خلاء کو پر نہ کیا تو دہشتگردی دوبارہ واپس آ سکتی ہے، ہمیں اس خلا کو پر کرنا چاہئے، قبائل کے پرانے بلدیاتی نظام میں سب کو انصاف مل رہا تھا، ڈی آر سی کے نظام میں 17 ہزار کیسز کو حل کیا گیا۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ فاٹا سیکریٹریٹ کو بند کرکے لوگوں کو فیصلے کرنے دیئے جائیں، بیوروکریٹ فاٹا میں پیسہ بنانے کے لئے آتے ہیں، فاٹا کے نوجوانوں کو کرکٹ کا بہت شوق ہے، اللہ نے موقع دیا تو قبائلی علاقوں میں سٹیڈیم بنائیں گے، قبائلی لوگ کبھی ہار نہیں مانتے، جب انصاف ہو تو قوم جڑ جاتی ہے، اگر انصاف نہ ہو تو علیحدگی ہوتی ہے، ایسٹ پاکستانیوں سے ہم نے انصاف نہیں کیا تھا اسی لئے وہ ہم سے علیحدہ ہوئے۔عمران خان نے مزید کہا کہ فاٹا کے لوگوں کیساتھ کھڑا ہوں۔ عمران خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت 2018ء کے الیکشن تک فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرے، فاٹا انضمام کے لئے ساری چیزیں حل ہو چکی ہیں، ہم پیر تک دیکھیں گے، اگر حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو سڑکوں پر آنے کی بڑی پریکٹس ہو چکی ہے، پیر کے بعد قبائلیوں اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کو اسلام آباد بلائیں گے، حکومت مان گئی ہے، فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کیوجہ سے بات آگے نہیں بڑھ رہی، باقی صوبوں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے، جیسے ایسٹ اور ویسٹ جرمنی کا انضمام ہوا ویسے ہی فاٹا کا انضمام ہو گا، قبائلیوں کو بھی دوسرے پاکستانیوں جیسے حقوق دلوائیں گے۔