مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کی آزاد فضائوں میں آمد کے بعد عمرے کی خواہش !!
اسلام آباد ...تقریبا سات ماہ تک مقید رہنے والے سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے رہائی کے فوری بعد عمرے کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی مگر پھر خود ہی کہا کہ ملکی حالات ابھی اس کی اجازت نہیں دیتے۔ سابق صدر نے 6 ماہ 24 دن قید کے بعد رہائی کا پہلا دن اپنے اہل خانہ کے ساتھ اور قریبی دوستوں اور اسٹاف سے ملاقاتوں میں گزارا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ شکرانے کا عمرہ ادا کرنے سعودی عرب جانا چاہتے تھے لیکن ملکی حالات ایسے ہیں کہ فی الحال پاکستان میں ہی رہنا پسند کریں گے۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں رہیں گے اور تمام چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔ بظاہر یوں لگتا ہے جیسے سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کی سختی کے دن ٹل گئے۔ ایسا محسود برادران کی ہلاکت کی وجہ سے ممکن ہوا یا شریف برادران کے دل پسیج گئے۔ لیکن تمام مقدمات میں ضمانت ہوجانے کے باوجود چھوٹی موٹی عدالتی کاروایئوں کے بکھیڑوں میں پھنسے پرویز مشرف حقیقی طور پر آزاد فضائوں میں تبھی سانس لے سکے جب چک شہزاد کے انکے فارم ہائوس ست تمام پہرے ہٹ گئے۔ پیر کی صبح اسلام آباد کی مقامی عدالت نے لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی مگر ایک اعتراض کے باعث فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو دوپہر کو سنایا گیا۔ مولانا عبدالرشید غازی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزم پرویز مشرف کی ضمانت منظور نہ کی جائے کیونکہ اُنہوں نے ملزم کی ضمانت کی درخواست کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک حکم امتناعی کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کا جلد فیصلہ آجائے گا جس پر متعلقہ عدالت نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔ تاہم مدعی مقدمہ کے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ایسا کوئی حکم نامہ عدالت میں پیش نہیں کر سکے جس کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔ یہ چوتھا اور آخری مقدمہ تھا جس میں سابق فوجی صدر نے ضمانت کی درخواست دی تھی۔ اس سے قبل پرویز مشرف کو اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جس میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل، اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات شامل ہیں۔