مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سعودی حکومت کی ڈیڈ لائن ختم، غیر قانونی تارکین وطن کی تلاش میں چھاپوں کا آغاز ..!!
ریاض ... بیرون ممالک سے روزگار کیلئے سعودی عرب آئے افراد کو ضروری کاغذات کی تکمیل کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد سعودی حکومت نے اپنی کاروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔ سعودی عرب میں رواں برس ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ تین نومبر تک اپنی ویزا دستاویزات درست کر لیں یا ملک سے نکل جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ سیکورٹی اداروں نے پیر سے ملک کے مختلف حصوں میں چھاپہ مار کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ایشیائی ممالک کے علاوہ یمن، مصر، لبنان اور ایتھوپیا جیسے عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے محنت کش لوگ سعودی عرب کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے ملکوں کے لیے بھی زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں 80 لاکھ کے قریب غیر ملکی ملازمین ہیں اور نئے قوانین کے نفاذ کے بعد دس لاکھ کے قریب غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملازمت کے نئے قوانین سعودی حکومت کی اس مہم کا حصہ ہیں جس میں غیر ملکی افراد پر کم سے کم انحصار کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ڈیڈ لائن کے خاتمے سے ایک دن قبل بھی کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے کارکنوں کی بڑی تعداد سعودی دفاتر کے باہر جمع رہی جن میں سے متعدد کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں دی گئی مدت میں توسیع کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود کاغذات کی درستگی کے لیے یہ مدت کم تھی۔ متعدد ممالک نے سعودی عرب سے سات ماہ کی اس مہلت میں مزید تین ماہ کے اضافے کی اپیل کی تھی تاہم سعودی حکام نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ کچھ کارکنوں نے سعودی عرب کے سرکاری ملازمین کی بدانتظامی کو بھی تاخیر کی وجہ قرار دیا۔ سعودی عرب میں اصلاحات کےاس عمل کی بڑی وجہ ملک سے اپنے باشندوں کی بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ نئے قانون کے مطابق نامکمل کاغذات کے حامل ناصرف افراد کو سزا ملے گی بلکہ اسکے سعودی کفیل کو بھی تعزیر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔