مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکی غلاموں سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نئے طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین !!
اسلام آباد ...تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں جنگجو رہنما عصمت اللہ شاہین کو نیا طالبان لیڈر قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ کسی امریکی غلام سے مزاکرات کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ بیان میں کہا گیا کہ تنظیم کے سرکردہ ارکان کے ایک اجلاس میں عصمت اللہ شاہین کو نگراں سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں تنظیم کے مستقل سربراہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے پہلے بیان میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی اور ان کی موت کا بھرپور انداز میں انتقام لینے کی دھمکی دی گئی۔ بیان میں حکیم اللہ محسود کے قتل کا ذمہ دار پاک فوج اور امریکہ کو قرار دیا گیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس بیان میں حکومت سے بات چیت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی غلاموں سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ بیان میں میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قیمت پانچ کروڑ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے میڈیا کی ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کسی بحران کا شکار نہیں ہے اور نئے امیر کی تقرری کے لیے شوریٰ اگلے چند دنوں میں متفقہ فیصلہ کا اعلان کرے گی۔