مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نئی دہلی: آخری رسومات کے دوران مردہ قرار دیا گیا بچہ دوبارہ سانسیں لینے لگا
نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت کے علاقے شالیمار باغ کے ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا۔ دہلی کے میکس ہسپتال میں ڈاکٹرز کی غفلت کے حالیہ واقعے نے نہ صرف بھارتی عوام کو جھنجھوڑ کررکھ دیا بلکہ حکومت بھی ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت پر تشویش کا شکار ہو گئی ہے۔ والدین جب اسے آخری رسومات کے لیے کر جا رہے تھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کر رہا ہے جسے لے کر وہ لوگ فوراً اسپتال پہنچے۔بچے کے نانا کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور اس کے 12 منٹ بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی یہ دونوں بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے۔ ڈاکٹرز نے ہم سے کہا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی ہے جب کہ بچہ زندہ ہےاور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز نے گھر والوں سے کہا کہ بچہ بھی اس دنیا میں نہیں رہا اور اس کی لاش ایک پلاسٹک بیگ میں رکھ کر ہمیں دے دی۔ آخری سومات کے لیے لے جاتے وقت ہم نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کر رہا ہے جب بچے کو دیکھا گیا تو وہ سانس لے رہا تھا اس کے بعد گھر والے بچے کو لے کر قریبی ہسپتال پہنچے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ بچے کو زندہ دیکھ کر گھر والے طیش میں آ گئے اور انہوں نے ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی پولیس میں شکایت درج کرائی۔ دوسری جانب میکس ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرائیں گے جب کہ متعلقہ ڈاکٹرز سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کی جائے۔