مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نئی دہلی: آخری رسومات کے دوران مردہ قرار دیا گیا بچہ دوبارہ سانسیں لینے لگا
نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت کے علاقے شالیمار باغ کے ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا۔ دہلی کے میکس ہسپتال میں ڈاکٹرز کی غفلت کے حالیہ واقعے نے نہ صرف بھارتی عوام کو جھنجھوڑ کررکھ دیا بلکہ حکومت بھی ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت پر تشویش کا شکار ہو گئی ہے۔ والدین جب اسے آخری رسومات کے لیے کر جا رہے تھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کر رہا ہے جسے لے کر وہ لوگ فوراً اسپتال پہنچے۔بچے کے نانا کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور اس کے 12 منٹ بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی یہ دونوں بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے۔ ڈاکٹرز نے ہم سے کہا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی ہے جب کہ بچہ زندہ ہےاور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز نے گھر والوں سے کہا کہ بچہ بھی اس دنیا میں نہیں رہا اور اس کی لاش ایک پلاسٹک بیگ میں رکھ کر ہمیں دے دی۔ آخری سومات کے لیے لے جاتے وقت ہم نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کر رہا ہے جب بچے کو دیکھا گیا تو وہ سانس لے رہا تھا اس کے بعد گھر والے بچے کو لے کر قریبی ہسپتال پہنچے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ بچے کو زندہ دیکھ کر گھر والے طیش میں آ گئے اور انہوں نے ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی پولیس میں شکایت درج کرائی۔ دوسری جانب میکس ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرائیں گے جب کہ متعلقہ ڈاکٹرز سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کی جائے۔