مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نئی دہلی: آخری رسومات کے دوران مردہ قرار دیا گیا بچہ دوبارہ سانسیں لینے لگا
نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت کے علاقے شالیمار باغ کے ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا۔ دہلی کے میکس ہسپتال میں ڈاکٹرز کی غفلت کے حالیہ واقعے نے نہ صرف بھارتی عوام کو جھنجھوڑ کررکھ دیا بلکہ حکومت بھی ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت پر تشویش کا شکار ہو گئی ہے۔ والدین جب اسے آخری رسومات کے لیے کر جا رہے تھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کر رہا ہے جسے لے کر وہ لوگ فوراً اسپتال پہنچے۔بچے کے نانا کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور اس کے 12 منٹ بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی یہ دونوں بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے۔ ڈاکٹرز نے ہم سے کہا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی ہے جب کہ بچہ زندہ ہےاور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز نے گھر والوں سے کہا کہ بچہ بھی اس دنیا میں نہیں رہا اور اس کی لاش ایک پلاسٹک بیگ میں رکھ کر ہمیں دے دی۔ آخری سومات کے لیے لے جاتے وقت ہم نے محسوس کیا کہ بچہ حرکت کر رہا ہے جب بچے کو دیکھا گیا تو وہ سانس لے رہا تھا اس کے بعد گھر والے بچے کو لے کر قریبی ہسپتال پہنچے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ بچے کو زندہ دیکھ کر گھر والے طیش میں آ گئے اور انہوں نے ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی پولیس میں شکایت درج کرائی۔ دوسری جانب میکس ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرائیں گے جب کہ متعلقہ ڈاکٹرز سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش کی جائے۔