مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کوئنز میری یونیورسٹی لندن کے مسلمان طلبہ کی نماز جمعہ ادائیگی کیلئے جگہ کے حصول کی مہم جاری
لندن ...برطانیہ بھر کے اکثریتی تعلیمی اداروں میں مسلمان طلبہ کو ناصرف نماز کی ادائیگی کی اجازت ہے بلکہ اسکے لئے وقت بھی دیا جاتا ہے اور جگہ بھی مخصوص کر دی جاتی ہے۔ لندن میں واقع دنیا کی معروف یونیورسٹی کے طلبہ آجکل اپنے اس حق کے حصول کی خاطر احتجاج پر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کوئنز میری یونیورسٹی لندن کے طلبہ کی سب سے بڑی تنظیم اسلامک سوسائٹی نے یونیورسٹی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے جگہ نہ دئے جانے کے خلاف احتجاجی مہم کاآغاز کردیا ہے جس کانام عبادت کاحق رکھاگیا ہے۔ یونیورسٹی میں نماز جمعہ میں نمازیوں کی تعداد 500 کے قریب ہوتی ہے جس میں طلبہ، اساتذہ اور کیمپس کے دیگر اہلکار شامل ہوتے ہیں، ماضی میں یونیورسٹی اسلامی سوسائٹی کونماز جمعہ کیلئے گریٹ ہال یا آکٹاجن کی بکنگ کاموقع دے کر اس مطالبے کوتسلیم کرتی رہی ہے،لیکن اس تعلیمی سال پر یونیورسٹی نے کئی منطقی جواز پیش کرکے سوسائٹی کامطالبہ تسلیم کرنے سے انکارکردیا،جبکہ سوسائٹی سمجھتی ہے مذہبی عبادات کی ادائیگی تمام طلبہ اور عملے کاحق ہے اور اس ضرورت کی تکمیل یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے جس کو اب نظر انداز کیاجارہاہے، سوسائٹی اس مسئلے کے اطمینان بخش تصفئے کیلئے یونیورسٹی اور طلبہ یونین کے ساتھ سرگرمی کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے،لیکن ابھی تک یہ سب کاوشیں بے نتیجہ رہی ہیں۔ سوسائٹی کاکہنا ہے کہ یونیورسٹی کوئنز میری یونیورسٹی لندن کے 20 فیصد سے زیادہ مسلم طلبہ پر توجہ دینے کوتیار نہیں ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر سوسائٹی نے عبادت کا حق کے عنوان سے طلبہ یونین اور یونیورسٹی کے علم میں لاکر مہم کا آغاز کیاہے، جس میں نماز جمعہ کیلئے مناسب اور بڑی جگہ کی فراہمی کے مطالبے کااظہار کرنے کیلئے کھلی جگہ پر نماز جمعہ کی ادائیگی جو کہ یونیورسٹی کی جانب سے مسئلے کے مناسب حل تک جاری رہے گی۔ لوکل کمیونٹی کے مقامی افسران اور ممتاز ارکان سے رابطے کرنا اوراور ان سے اس مہم کی حمایت میں آواز اٹھانے کی درخواست کرنا،کیمپس میں طلبہ اورعملے میں لیف لیٹس ،درخواستوں اور عوامی مظاہروں کے ذریعے مسئلے کے بارے میں آگہی پیدا کرنا کھلی جگہ پر نماز جمعہ کی ادائیگی جس کاایک ذریعہ ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر سرگرمیوں کے ذریعے صورتحال کے بارے میں آگہی پیدا کرناشامل ہے۔ اس مہم کامقصد یونیورسٹی کو مذہب کے بنیادی ستون کی ادائیگی کی سہولت کی فراہمی پر رضامند کرنا ہے۔ سوسائٹی نے اس سلسلے میں بہت سی دیگر سوسائٹیوں کاتعاون اور حمایت حاصل ہے جن میں پاکستان سوسائٹی، عرب سوسائٹی،کیمسٹری سوسائٹی، کرسچین سوسائٹی اوربہت سی دیگر سوسائٹی شامل ہیں۔ اس مسئلے میں مختلف النوع سوسائٹیوں کی شراکت سے اس مہم کے نظم وضبط کی نوعیت کااظہارہوتاہے۔ سوسائٹی کو امید ہے کہ یونیورسٹی اس مہم کے نتیجے میں اٹھنے والی ہزاروں طلبہ اور عملے کے ارکان کی آوازیں سنے گی اوراس پر توجہ دے گی۔